چترال کا حسن گہنا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمال مغرب میں ضلع چترال سلسلہ ہندوکش میں واقع ایک دلکش وادی ہے۔ تقریبا چار لاکھ آبادی کا یہ شہر اپنے دلکش مناظر اور خوشگوار موسم کے لئے سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ لیکن اس شہر کی وجہ شہرت صرف یہی نہیں بلکہ یہاں چند قدیمی عمارتیں بھی دیکھنے کے لائق ہیں۔ ان میں شہر کے وسط میں واقع پرانا شاہی قلعہ اور شاہی مسجد شامل ہیں۔ شاہی مسجد کے تین گنبد اور دو اونچے مینار تو دور سے ہی نظر آتے ہیں اور اچھی حالت میں ہیں لیکن اصل تشویش ماہرین کو شاہی قلعے کے بارے میں ہے۔ شاہی قلعہ کی زبوں حالی کا اندازہ تو اس کے عالیشان صدر دروازے پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ انسانی عدم توجہ اور قدرتی زلزلوں کے اثرات چیخ چیخ کر اپنی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ ستونوں کا پلاسٹر جھڑ رہا ہے جبکہ کئی مینار غائب ہیں۔ ایک چھوٹے سے دروازے سے قلعے کے اندر داخل ہوں تو ایک اور ویرانہ آپ کو حیران کر دے گا۔ بڑے سے میدان کے اردگرد بغیر چھت کے کمرے عجیب وحشت کا سما پیدا کرتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک کمرے میں کبھی مقامی کھوار زبان کی ترویج اور فروغ کا کوئی دفتر تھا۔ دفتر اور عہدیدار تو موجود نہ تھے لیکن ایک پرانا زنگ آلود بورڈ ابھی بھی لٹکا ہوا نظر آتا ہے۔ ا
البتہ انیسو چھبیس کو اس قلعے کے بیرونی حصے، دربار ہال اور دفاتر کی عمارت کی نئی تعمیر شروع ہوئی جو سولہ برسوں میں مکمل ہوئی۔ ڈاکٹر عنایت کے مطابق اس طرح یہ قلعہ قدیم اور اس وقت کے جدید مغل طرزِ تعمیر کا ایک حسین امتزاج بن گیا۔ لیکن قلعے کے بعض حصے آج بھی قدرے بہتر حالت میں موجود ہیں۔ یہاں چترال کے حکمراں یا مہتر رہا کرتے تھے۔ اس میں شاہی مہمان خانہ قابل ذکر ہے۔ قدیم قندیلیں اور کاشی کاری سے مزئین درو دیوار ایک پرمسرت احساس دلاتے ہیں۔ یہاں بھی آپ کو پشاور کے قدیم محلہ سیٹھیان کی حویلیوں جیسا آرائشی کام دیکھنے کو ملے گا۔ دوسری چھت پر بڑے کمرہِ خاص کو چترال کے مہتروں یا حکمرانوں کی بڑی بڑی تصاویر سے بھی سجایا گیا ہے۔ ان میں موجودہ حکمراں سیف الملوک ناصر کی بچپن کی تصویر بھی تھی۔ جبکہ باہر ماضی کی زنگ آلود توپیں بھی پڑی دھول اکٹھی کرتی ملیں گی۔ اس محل کے سامنے زمین میں ایک دروازہ دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے بتایا گیا زیر زمین قید خانہ۔ کافی خوفناک نظر آتا تھا۔ قلعہ کی دو سمت میں کافی بڑے بڑے سر سبز باغات موجود ہیں اور ایک ہوٹل بھی کام کر رہا ہے۔
چترال کی عوام کو بھی اس ورثے کے کھونے پر شدید تشویش لاحق ہے۔ ایک شہری عطاالرحمان کا کہنا تھا کہ اس جیسی عمارتوں کو بچانے سے اس علاقے میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ’یہ ہماری تاریخ ہے اسے ضرور بچایا جانا چاہیے۔‘ صوبہ سرحد کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ چترال کا شاہی قلعہ اور مسجد بھی حکومت کے لئے اہم آثار قدیمہ کے منصوبوں میں شامل ہیں لیکن اصل مسئلہ ایسے کاموں کے لئے مختص کی گئی رقوم ہیں۔ ’ہمارا سالانہ بجٹ اتنا محدود ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک دو عمارتوں پر ہی کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کی ترجیح اس سلسلے میں انتہائی کم ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ یونیسکو جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ وہ اُسی صورت میں فنڈ فراہم کر سکتی ہیں جب عمارت حکومت کی ملکیت ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||