BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 June, 2004, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چترال کا حسن گہنا گیا

چترال کا قلعہ
پاکستان کے شمال مغرب میں ضلع چترال سلسلہ ہندوکش میں واقع ایک دلکش وادی ہے۔ تقریبا چار لاکھ آبادی کا یہ شہر اپنے دلکش مناظر اور خوشگوار موسم کے لئے سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ لیکن اس شہر کی وجہ شہرت صرف یہی نہیں بلکہ یہاں چند قدیمی عمارتیں بھی دیکھنے کے لائق ہیں۔ ان میں شہر کے وسط میں واقع پرانا شاہی قلعہ اور شاہی مسجد شامل ہیں۔ شاہی مسجد کے تین گنبد اور دو اونچے مینار تو دور سے ہی نظر آتے ہیں اور اچھی حالت میں ہیں لیکن اصل تشویش ماہرین کو شاہی قلعے کے بارے میں ہے۔

شاہی قلعہ کی زبوں حالی کا اندازہ تو اس کے عالیشان صدر دروازے پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ انسانی عدم توجہ اور قدرتی زلزلوں کے اثرات چیخ چیخ کر اپنی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ ستونوں کا پلاسٹر جھڑ رہا ہے جبکہ کئی مینار غائب ہیں۔

ایک چھوٹے سے دروازے سے قلعے کے اندر داخل ہوں تو ایک اور ویرانہ آپ کو حیران کر دے گا۔ بڑے سے میدان کے اردگرد بغیر چھت کے کمرے عجیب وحشت کا سما پیدا کرتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک کمرے میں کبھی مقامی کھوار زبان کی ترویج اور فروغ کا کوئی دفتر تھا۔ دفتر اور عہدیدار تو موجود نہ تھے لیکن ایک پرانا زنگ آلود بورڈ ابھی بھی لٹکا ہوا نظر آتا ہے۔

ا

چترال قلعہ
س قلعے کی تعمیر مقامی لوگوں نے اس وقت کے مقامی طرز تعمیر کے مطابق اور مقامی طور پر مہیا وسائل سے کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کسی حملہ آور یا بیرونی طرز تعمیر کا کوئی اثر نہیں۔ چترال کے دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کہتے ہیں کہ قلعہ کا قدیم حصہ خالص مقامی طرز تعمیر کا آئینہ دار ہے۔

البتہ انیسو چھبیس کو اس قلعے کے بیرونی حصے، دربار ہال اور دفاتر کی عمارت کی نئی تعمیر شروع ہوئی جو سولہ برسوں میں مکمل ہوئی۔ ڈاکٹر عنایت کے مطابق اس طرح یہ قلعہ قدیم اور اس وقت کے جدید مغل طرزِ تعمیر کا ایک حسین امتزاج بن گیا۔

لیکن قلعے کے بعض حصے آج بھی قدرے بہتر حالت میں موجود ہیں۔ یہاں چترال کے حکمراں یا مہتر رہا کرتے تھے۔ اس میں شاہی مہمان خانہ قابل ذکر ہے۔ قدیم قندیلیں اور کاشی کاری سے مزئین درو دیوار ایک پرمسرت احساس دلاتے ہیں۔ یہاں بھی آپ کو پشاور کے قدیم محلہ سیٹھیان کی حویلیوں جیسا آرائشی کام دیکھنے کو ملے گا۔

دوسری چھت پر بڑے کمرہِ خاص کو چترال کے مہتروں یا حکمرانوں کی بڑی بڑی تصاویر سے بھی سجایا گیا ہے۔ ان میں موجودہ حکمراں سیف الملوک ناصر کی بچپن کی تصویر بھی تھی۔ جبکہ باہر ماضی کی زنگ آلود توپیں بھی پڑی دھول اکٹھی کرتی ملیں گی۔

اس محل کے سامنے زمین میں ایک دروازہ دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے بتایا گیا زیر زمین قید خانہ۔ کافی خوفناک نظر آتا تھا۔ قلعہ کی دو سمت میں کافی بڑے بڑے سر سبز باغات موجود ہیں اور ایک ہوٹل بھی کام کر رہا ہے۔

چترال قلعہ
اس قدیمی ورثے کی بدحالی کی وجہ ڈاکٹر عنایت نے حکومت اور اس کی نوکر شاہی کی غلط پالیسیوں کو قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ 1969 میں چترال ریاست کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد انہوں نے یہاں کے حکمرانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے بجائے ان میں بداعتمادی پیدا کی۔ ’چاہیے تھا کہ اس وقت حکومت سالانہ یا ماہانہ بنیاد پر مہتروں کو کوئی معاوضہ دے کر یہ عمارتیں لے لیتی اور اسے قومی بلکہ بین الاقوامی ورثہ قرار دے دیتی۔ لیکن حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سابق حکمراں سمجھنے لگے کہ ان سے سب کچھ چھینا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس قلعے کو حکومت کے حوالے کرنے پر تیار نہیں اور نہ خود اس کی مناسب مرمت اور دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔’

چترال کی عوام کو بھی اس ورثے کے کھونے پر شدید تشویش لاحق ہے۔ ایک شہری عطاالرحمان کا کہنا تھا کہ اس جیسی عمارتوں کو بچانے سے اس علاقے میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ’یہ ہماری تاریخ ہے اسے ضرور بچایا جانا چاہیے۔‘

صوبہ سرحد کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ چترال کا شاہی قلعہ اور مسجد بھی حکومت کے لئے اہم آثار قدیمہ کے منصوبوں میں شامل ہیں لیکن اصل مسئلہ ایسے کاموں کے لئے مختص کی گئی رقوم ہیں۔

’ہمارا سالانہ بجٹ اتنا محدود ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک دو عمارتوں پر ہی کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کی ترجیح اس سلسلے میں انتہائی کم ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یونیسکو جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ وہ اُسی صورت میں فنڈ فراہم کر سکتی ہیں جب عمارت حکومت کی ملکیت ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد