کیلاش میں جشنِ بہاراں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی ضلع چترال کے دور افتادہ علاقے کافرستان کے کیلاش لوگ آج کل موسم بہار کی آمد پر اپنا مذہبی اور ثقافتی تہوار چلم ’جشٹ’ منا رہے ہیں۔ اس جشن میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعات سے بعد یہاں سیاحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے لیکن اب سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ پاکستان کے شمال مغرب میں چترال سے تقریبا پینتس کلومیٹر دور افغانستان کی سرحد کے قریب سرسبز پہاڑی علاقے کافرستان واقعے ہے۔ یہاں بسنے والے غیر مسلم کیلاش لوگ آج کل بہار کی آمد کا استقبال کرنے میں مصروف ہیں۔ اس دلکش پہاڑی وادیوں میں بہار اپنا پورا جوبن دیکھا رہی ہے جبکہ لوگ مخصوص رقص اور رسومات کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیلاش خواتین رنگین مخصوص لباس اور گلے میں ان گنت رنگ برنگے ہاروں کا وزن اٹھائے یہ تہوار منا رہی ہیں۔ اس دوڑ میں ان کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک منفرد سے سما معلوم ہوتا ہے۔ چترال سے سب سے بڑی کلاش وادی بمبوریت ہے۔ راستہ ایسا کچا اور تنگ کے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی ہی گزر سکتی ہے۔ سامنے سے آنے والی جیپ کو کوسوں دور مناسب جگہ دیکھ کر رکنا پڑتا ہے جہاں سے دوسری گاڑی گز سکے۔ اس راستے کو طے کرنا خود انسان کے اندر کی مضبوطی کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسے جھٹکے کہ دن بھر کا کھایا پیا ہضم ہونا لازمی ہے۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے اس سفر میں یخ بستہ پانی سے ٹھاٹھے مارتا دریا کابل آپ کا اچھا ساتھی ثابت ہوتا ہے۔ بمبوریت پہنچیں تو دو چیزیں واضع سامنے آتی ہیں۔ ایک لاتعداد ہوٹل اور دوسرا ان گنت مدرسے۔ سیاحوں کی بھی بھرمار۔ گندم کی فصلوں سے کھیت بھرے پڑے ہیں جبکہ اخروٹ، خوبانی اور توت کے قدآور درخت ہرے بھرے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں کی شہد کی مکھیوں کو پیٹ بھر کر کھانے کو ملتا ہے اور اس سے جو خالص شہد وہ پیدا کرتی ہیں وہ اپنی شہرت اپنے معیار کی وجہ سے رکھتا ہے۔ مقامی لوگوں کی طرح یہاں کے مکانات بھی منفرد۔ مہنگی دیار لکڑی اور گارے اس کے دو بڑے اجزاء ہیں۔ چھوٹے چھوٹے یہ مکان تنگ اور تاریک بھی اور کافی گندے بھی ہوتے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ شاید صفائی کلاش کے لوگوں کی ترجیحات میں کہیں نہیں۔ عورتیں اتنی سیاحت سے متاثر کہ تصویر بنانے کا معاوضہ طلب کرتی ہیں۔ ان میں رحیمہ بی بی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس تہوار کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار بھی ان کی مسلمانوں کی عید کے برابر ہے۔ وہ ہر سال تین تہوار مناتے ہیں۔ چلم جشٹ ان میں سب سے بڑا ہے۔ ’ہم اس تہوار کے تین روز ناچتے گاتے ہیں اور پیتے پلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اچھی فصل اور زندگی کی دعا اور دیگر رسومات بھی کرتے ہیں۔’ ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں ملکی اور بین القوامی سیاح کیلاش کی منفرد ثقافت دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں کی انفرادیت اس مرتبہ اسلام آباد میں یونانی سفارت خانے کے الزانڈر کو بھی یہاں کھینچ لائی۔ وہ گزشتہ دو برسوں سے اردو بھی سیکھ رہے ہیں۔ ان کا اس تہذیب کے بارے میں اپنی اردو میں کہنا تھا کہ اس منفرد ثقافت کو بچانے کی ضرورت ہے۔ ’اس چیز کو بچانے کے لئے بہت کچھ ہوا ہے اور بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ لوگ اپنے مذہب اور ثقافت کو بچا سکیں۔‘ گیارہ ستمبر کے واقعات نے جو مقامی سیاحت پر برا اثر چھوڑا وہ سب کو معلوم ہے لیکن اب کچھ حالات بہتری کی جانب آ رہے ہے۔ اس کا اعتراف چترال کے ضلع رابطہ افسر محمد عادل بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا آج کل روزانہ تیس چالیس سیاح کلاش وادی کا رخ کر رہے ہیں جہاں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ’چترال ایک ایسا پرامن ضلع ہے جس کی مثال آپ کو پورے پاکستان میں نہیں ملتی۔ یہاں ملکی اور غیرملکیوں کو کوئی مسئلہ نہیں وہ باآسانی گھوم پھر سکتے ہیں۔’ سڑکیں ناپید ہیں لیکن ٹیلیفون جیسی ضروری چیز بھی اس وادی میں دستیاب نہیں۔ لیکن پسماندگی کے علاوہ کیلاش کے لوگوں کو معاشی اور ثقافتی خطرات کا بھی سامنا ہے۔ ان کی زندگیوں میں ترقی کے ذریعے بہتری لانے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے اپنے حال میں مست رہنے کی پوری آذادی بھی دی جانی چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||