کاغان: لاپتہ افسر کی لاش برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے لاپتہ دوسرے زیر تربیت رینج افسر کی لاش بھی مل گئی ہے۔ لاپتہ ہونے والے 6 افسروں میں سے چار جمعرات کو بحفاظت واپس آ گئے تھے۔ پولیس کے مطابق ایک کھائی میں سے ملنے والی یہ لاش پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیر تربیت رینج افسر غلام مجتبٰی بتایا کی ہے جس کا تعلق صوبہ سندھ کے حیدر آباد شہر سے ہے۔ جمعرات کو ایک اور زیر تربیت رینج افسر عبدالقدیر کی لاش بھی ایک کھائی سے ملی تھی۔ اس کا تعلق بھی صوبہ سندھ کے علاقے جام شورو سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ ہلاک والے یہ دو زیر تربیت افسران 30 افراد کے اس گروپ میں شامل تھے جو گزشتہ ہفتے وادئِ کاغان میں پائی جانے والی نباتات کے مطالعاتی دورے پر گئے تھے۔ پشاور میں قائم پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیر تربیت افسران کا یہ دورہ ان کی ٹرینگ کا حصہ ہے۔ فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے چھ زیر تربیت افسران 12000 ہزار فٹ سے زائد بلند چوٹی سےگزشتہ پیر کو اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ دورے کے آخری مرحلے میں مکڑہ پہاڑ پر گئے۔ اس چوٹی کے ایک طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دارلحکومت مظفرآباد اور دوسری طرف پاکستان کا صوبہ سرحد واقع ہے۔ جمعرات کی صبح مقامی لوگوں نے لاپتہ ہونے والے ان 4 افسران کو، جو مکٹرا چوٹی کی ایک کھائی میں پھنس چکے تھے، رسوں کی مدد سے نکالا تھا اور ان کو بحفاظت حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ واپس پہنچنے والوں میں چترال کے الطاف علی شاہ، اٹک کے تیمور عارف، اٹک ہی کی کنیز فاطمہ اور بنوں کی عمیارہ بیگم شامل ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس علاقے میں پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور کے ِزیر تربیت افسروں کے ساتھ اس طرح کا واقع پیش آیا۔ صوبہ سرحد میں تحصیل بالاکوٹ کے ڈی ایس پی محمد خالد خان نے کہا کہ پولیس نے اس واقعہ کو ہر زاویہ سے دیکھا اور کہا کہ یہ واضع طور پر ایک اتفاقیہ حادثہ ہے۔ عبدالقدیر کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہسپتا ل کے انچارج ڈاکڑ فدا حسین نے کہا کہ بظاہر موت واقع ہونے کی وجہ بھوک، ٹھنڈ اور خوف ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||