لاپتہ افسران مل گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے میں محکمہ جنگلات کےچھ گمشدہ زیر تربیت رینج افسر بخریت واپس آگیے ہیں۔ اس کی تصدیق پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت میں قائم پاکستان فارست انسٹی ٹیوٹ کے قایم مقام ڈائریکڑ جنرل ڈاکڑ سردار محمد رفیق نےکی اور کہا کہ واپس آنے والے تمام لوگ بالکل ٹھیک ہیں۔ پاکستان کے شہر پشاور میں قائم پاکستان فارسٹ انٹی ٹیوٹ کے چھ زیر تربیت آفیسر بارہ ہزار فٹ سے زائد بلند چوٹی سے گزشتہ اتوار کو اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ نباتات کے مطالعے کے ایک معمول کے دورے پر وہاں گیےتھے۔ یہ مطالعاتی دورہ ان کی ٹرینگ کا حصہ ہوتی ہے جس چوٹی سے یہ زیر تربیت آفیسر لاپتہ ہوئے تھے وہ مکڑہ پہاڑ کہلاتی ہے اور اس چوٹی کے ایک طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دارالحکومت اورمظفرآباد دوسری طرف پاکستان کا صوبہ سرحد واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیس زیر تربیت آفیسر گزشتہ ہفتے کے اوائل میں وادی کاغان کی مختلف اقسام کے نباتات کے مطالعہ کے دورے پر گئے تھے۔ ان افسروں کوپانچ مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر گروپ چھ افراد پر مشتمل تھا۔ اتوار کی صبح کو اس مطالعاتی دورے کے آخری مراحلے میں پروگرام آفیسر نے ان زیر تربیت افسروں کے پانچوں گروپوں کو مکڑا چوٹی پر نباتات کے مطالعے کے لیے بیھجا۔ چارگروپ اسی دن بعد دوپہر مقررہ وقت پر واپس اپنے مرکز پہنچ گئے تھے لیکن پانچوان گروپ لا پتہ ہوگیا۔ بدھ کی صبح مقامی لوگوں نے ان تمام افسران کو مکٹرا چوٹی کی کھایی سے نکالا جو وہاں پنھس گئے تھے اور اس کی اطاع متعلقہ حکام کو دے دی گئی۔ بعد ازان ان کو فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر راجہ محمد ظریف کے حوالے کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افسران ممکنہ طور پر موسم کی خرابی اور اندھیرا چھا جانے کے باعث راستہ بھٹک گئے اور کھایی میں پھنس گیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||