BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیکنالوجی نے چترالی پٹی کو بچا لیا

چترالی پٹی کی تیاری
چترالی پٹی کی صنعت کو بچانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا ہے
پاکستان کے شمالی ضلع چترال کی ایک خصوصیت وہاں مقامی طور پر تیار ہونے والا اُونی کپڑا یعنی چترالی پٹی ہے۔

مختلف وجوہات کی وجہ سے ماضی میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی لیکن اب مختلف تنظیموں کی کوششوں سے اس کے معیار میں بہتری لائی گئی ہے جس سے اس کی مانگ میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

چترال میں ایک کھڈی پر بیٹھا اکبر خان پچھلے تیس برسوں سے یہاں کا مخصوص اونی کپڑا چترالی پٹی تیار کر رہا ہے۔ اس کپڑے کی تیاری کے بارے میں اس سے زیادہ کون بہتر جانتا ہوگا؟

مقامی زبان میں شو کہلوانے والے اس کپڑے سے یہاں اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے صدیوں تک گرم لباس اور لحاف بناتے تھے۔ لیکن اب یہ باہر کی دنیا میں بھی کافی مقبولیت پا چکا ہے۔ چترالی ٹوپیاں، واسکٹیں اور چغے اسی کپڑے سے تیار کئے جاتے ہیں۔

اکبر سے پوچھا کہ وہ دن میں کتنا کپڑا تیار کر لیتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ پرانی کھڈی پر وہ دن میں تین چار گز پٹی بن لیتا تھا لیکن اب نئی لوُم کے آنے سے اس کی کارکردگی دوگنی ہوگئی ہے۔

’دن میں سو ڈیڑھ سو کما لیتا ہوں جس سے گزارہ ہوجاتا ہے۔‘

اسی کی دہائی میں اس کپڑے کی مانگ میں زبردست کمی آئی۔ اس کی وجہ ملک کے دیگر علاقوں میں سوت سے اسی قسم کے کپڑے کی تیاری تھی۔ سستا ہونے کی وجہ سے اصل پٹی تیار کرنے والوں کو نقصان اٹھانا پڑا جس سے اس کی تیاری میں بھی کمی آئی۔

اس بگڑتی صورتحال کو سنبھالنے اور پٹی تیار کرنے والوں کو تحفظ دینے کی خاطر شوبیناک نامی ایک غیر سرکاری تنظیم سامنے آئی۔ اس تنظیم نے چترالی پٹی کے تیاری کے عمل سے لے کر لباس کی ڈیزائنگ تک تمام مراحل کو جدید خطوط پر استوار کیا۔

اس کوشش کی تفصیل شوبیناک (چترالی زبان میں اس کا مطلب ہے مکڑا) کے رضا الملک نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اس پٹی کے لئے تیار کئے جانے والے تار سے لیکر حتمی ڈیزائن کے ہر شعبے میں لوگوں کی تربیت کی اور انہیں جدید خطوط پر استوار کیا۔

’معیار کے بہتر ہونے سے اس کی اپنی ایک خصوصیت قائم ہوئی جس سے اس کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا۔‘

اب چترالی پٹی میں مغربی طرز کا لباس بھی تیار کیا جاتا ہے جس سے کثیر زرمبادلہ بھی کمایا جا رہا ہے۔

چترال کی ایک دوکان میں پٹی خرید رہے ایک نوجوان احسان الحق سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا نئے نئے ڈیزائین میں پٹی کے بنے ملبوسات نے لوگوں کو دوبارہ اپنی جانب متوجہ کیا ہے، خاص کر نوجوان نسل کو۔

اصل اصل ہوتا ہے اور نقل نقل۔ وقتی دھچکے کے بعد اصلی چترالی پٹی نے دوبارہ میدان میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر لی ہے۔ اس کامیاب کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور آگہی سے فائدہ اٹھا کر روایتی دستکاری اور ثقافت کو بچایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد