جشن چترال شروع نہ ہو سکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کی شمالی پہاڑی ضلع چترال میں جشنِ چترال مذہبی عناصر کی جانب سے اعتراضات اور مداخلت کی وجہ سے شروع نہ ہوسکا ہے۔ مقامی مذہبی جماعتیں کا کہنا ہے کہ جشن کے دوران غیراسلامی اطوار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ چترال ایسویشن فار ماونٹین ایریا ٹورزم کے زیر انتظام جشن چترال بدھ کو شروع ہو کر ایک ہفتے تک جاری رہنا تھا۔ یہ تہوار پہلی مرتبہ انیس سو ستر میں شروع ہوا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر صرف آٹھ برس ہی چل سکا۔ اسے دوبارہ منانے کا اہتمام گزشتہ برس کیا گیا۔ لیکن اس سال ایک بار پھر مقامی مذہبی عناصر نے اس پر غیر اسلامی اطوار کو فروغ دینے کا الزام لگا کر اسے متنازعہ بنا دیا۔ انہوں نے احتجاج کیا اور جشن کے لئے لگائے گئے آرائشی پرچموں کو اتار دیا۔ چترال کے ایک مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے بتایا کہ مذہبی عناصر اس جشن کے دوران شراب نوشی اور فحاشی کے فروغ کا الزام لگاتے ہیں۔ ’مذہبی عناصر میں مولانا اسرار الدین الہلال کو ایسوسی ایشن سے ہٹائے جانے کا بھی ملال ہے۔ پھر مقامی انتظامیہ کو دہشت گردی کی دھمکیاں بھی ملی تھیں کہ چھ خودکش حملہ آور جشن کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ جشن کے دوران کیلاش خواتین اپنا منفرد رقص کرتی ہیں، مقامی سطح پر تیار کی گئی اشیاء کی نمائش اور مقبول کھیلوں کے کئی مقابلے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان رنگا رنگ تقریبات اور اس علاقے کا حسن دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔ لیکن مذہبی عناصر کے اعتراضات کی وجہ سے یہ جشن ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||