بچے بارڈر بارڈر کھیلیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور اور امرتسر کے اسکولوں کے بچے امرتسر اور دہلی میں مل کر اسٹیج ڈرامہ پیش کریں گے جس میں واہگہ سرحد پر پرچم سرنگوں کرنے کی تقریب کو موضوع بناتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان امن اوراشتراک کا پیغام دیا گیا ہے۔ اجوکا تھیٹر گروپ کے بیس ارکان ، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جمعرات کو واہگہ کے راستے امرتسر روانہ ہوئے جہاں وہ ہندوستانی بچوں سے مل کر اسٹیج ڈرامہ کریں گے۔ اجوکا کے شاہد محمود ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ مدیحہ گوہر اور نسیم عباس بچوں کے ہمراہ گۓ ہیں اور امرتسر میں سپرنگ ڈیل تعلیمی سوسائٹی اور اسکول ان کےمیزبان ہیں جن کے بچوں کے ساتھ مل کر وہ دو ہفتے تک ایک ورکشاپ کے ذیعے ’بارڈر بارڈر‘ نامی ڈرامہ کی ریہرسل کریں گے اور بعد میں اسے پہلے امرتسر میں پرفام کریں گے اور پھر دہلی جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی میں ستمبر میں انٹرنیشنل چلڈرن اینڈ یوتھ تھیٹر میلہ ہورہا ہے جہاں لاہور اور مرتسر کے بچے مل کر یہ ڈرامہ اسٹیج کریں گے۔ اس کے بعد امرتسر کے بچےلاہور آئیں گے اور لاہور اور اسلام آباد میں یہی اسٹیج کھیل پیش کیا جاۓ گا۔ شاہد محمود ندیم نے بتایا کہ اسٹیج ڈرامہ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ دونوں طرف کے بچے واہگہ سرحد پر پرچم سرنگوں کرنے کی تقریب دیکھنے جاتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملتا ہے اور انہیں پتا چلتا ہے کہ زبردستی تعصب اور ایک دوسرے کا غلط تاثر ان کے ذہنوں میں ڈالا گیا حالانکہ حقیقت میں ان میں بہت کچھ مشترک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامہ میں سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس کے چلائے جانے پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ نمائشی اقدامات ہیں اور اصل بات تو لوگوں کو آپس میں ملنا جلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے میں گانے بھی ہیں اور ہلہ گلہ بھی لیکن امن کا ایک طاقتور پیغام دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||