پاک و ہند: دوستی کےاظہار کا سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے تناظر میں سن دو ہزار چار کی خاص بات دونوں ممالک کے عوام اور حکمرانوں کے درمیان جاری رہنے والے رابطے اور مسلسل دوستی کا اظہار تھا۔ اس بات کا تعین ابھی مشکل ہے کہ اب یہ دونوں ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے، ان میں بے اعتباری اور شک کی فضا ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے اور اب پاک ہند جنگ کبھی نہیں ہو گی۔ عالمی ماحول کی وجہ سے لڑائی کا امکان تو شاید معدوم ہو جائے لیکن اسلحے کی دوڑ اور دفاعی اخراجات بحرحال جاری ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی بنیادی وجہ کشمیر ہے جو فریقین کے درمیان قومی وقار کا معاملہ بن چکا ہے۔ اس تنازعے کے حل کے لیے کوششوں کا ایک مثبت پہلو فریقین کا فوجی حل کے امکان کو رد کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کشمیر کے معاملے میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی اور بعض ہندوستانی وزرا کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نقطہ نظر سخت ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان بیانات میں کشمیر کو ہندوستان کا ’اٹوٹ انگ‘ بھی کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کے آئین میں حیثیت اس کی تبدیل کیے بغیر تلاش کرنا ہوگا۔
ہندوستان ٹائمز سے وابستہ صحافی ونود شرما اس سال پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک ہند تعلقات کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔
ونود شرما نے کہا کہ پاک ہند کے بارے میں یہ سمجھنا پڑے گا کے ان کے تعلقات کسی ’اقرار نامے‘ پر دستخط سے درست نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے عوام امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں گے اور بات آگے بڑھتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سے لوگوں کا آنا جانا اس سلسلے میں اہم ثابت ہوگا۔
بالی وڈ کی معروف اداکارائیں اور اداکار پاکستان آئے، پاکستانی اداکاراؤں نے بالی وڈ کی مہمان نوازی دیکھی۔ دونوں طرف سے طالب علموں، وکلاء اور صحافیوں کے وفود بھی سرحد پار آتے جاتے رہے۔ پاکستان سے بچے علاج کے لیے ہندوستان گئے اور مزید لوگوں کو علاج کی پیشکش کی گئی۔ سال بھر دوستی کے اقتصادی فوائد اور اس کے خطے کے عوام کے لیے امکانات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت ہندوستان اور پاکستان کا ایک دوسرے کے صحافیوں کو اپنے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کرنے کی اجازت دینا تھا۔ حالیہ دو برس کے دوران جاری رہنے والی کشیدگی اور سرحدوں پر تناؤ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ رابطے معمولی پیش رفت نہیں تھے۔ خاص طور پر جب ان کوششوں کے ساتھ ساتھ میزائلوں کے تجربات، اسلحہ کا حصول اور اس بابت ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سن دو ہزار چار کے رابطوں کا آغاز جنوری میں، اسلام آباد میں ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی سے ملاقات کے ساتھ، اس اُمید پر ہوا تھا کہ مذاکرات کا عمل مستقل امن کا باعث بنےگا۔
لیکن کیا یہ کامیابی کافی ہے؟ مشرف واجپئی کی طرف سے امید کے اظہار کے بارہ ماہ بعد بعض حلقوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بے چینی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں جوہری جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے نہ ہونا ہے۔ پانچ سال قبل ’لاہور ڈکلیریشن‘ میں بھی ’حادثاتی جوہری جنگ‘ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔ ان رکاوٹوں کے پیچھے یقیناً پانچ دہائیوں کی بداعتمادی کی فضا ہے جو چھٹنے میں اپنا وقت لے گی۔
ملاقات کے بعد وزرائے خارجہ نے اہم موضوعات پر اپنے اختلافات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پاکستانی شدت پسندوں کی در اندازی جاری ہے۔ پاکستان نے ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن تجزیہ نگاروں نے اختلاف رائے کے اسی اظہار کو کامیابی قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس کو بات چیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔
ان خاندانوں کے لیے سندھ اور کشمیر میں بس یا ریل سروس کا آغاز انتہائی راحت کا باعث ہوگا۔ لیکن ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ سال دو ہزار چار کے دوران پاک ہند رابطے
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی اسلام آباد میں ملاقات۔ کشمیری علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس اور بھارت حکومت کے درمیان دِلّی میں پہلی ملاقات۔ فروری مارچ مئی جون
پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی دِلّی میں ملاقات۔ کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن فریقین نے کچھ پیش رفت کی بات کی۔ صدر مشرف اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی نیو یارک میں ملاقات۔ کشمیر تنازعے کی تاریخ میں پہلی بار دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس مسئلہ کے حل کے لیے مختلف امکانات پر بات چیت کی۔ اکتوبر صدر مشرف نے کشمیر میں استصواب رائے کے مطالبے سے دستبرداری کے امکان کی بات کی۔ بھارت نے ان تجاویز پر زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا اور پاکستان سے سرکاری ضابطے کے ذریعے بات چیت کرنے کے لیے کہا۔ نومبر |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||