پاکستان میں کیا کیا ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سال دو ہزار چار کے دوران جہاں سیاسی کشیدگی رہی وہاں بڑی سیاسی تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ حزب مخالف کی بعض جماعتوں کا احتجاج جو سال بھر پارلیمان کے اندر جاری رہا وہ سال کے اختتام پر سڑکوں تک پہنچ گیا اور صدر مشرف کی فوجی وردی کا معاملہ سیاست پر چھایا رہا۔ صدر مشرف کی فوجی وردی کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کی حمایت پر ان کے خلاف دو بار عدم اعتماد کی تحریکیں پیش ہوئیں۔ وزیراعظم جمالی کے بقول کہ وہ ’روتے ہوئے‘ مستعفی ہوئے، چند ماہ کے لیے چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بنے اور وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوگئے اور شوکت عزیز کو نیا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ ایک لحاظ سے قوم نے تین ماہ میں تین وزیراعظم دیکھے۔ جہاں وزرائے اعظم کی تبدیلی سے کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں وہاں سویلین اور فوجی افسران کی بھی بڑے پیمانے پر ترقیاں اور تبادلے ہوئے۔ رواں سال کا آغاز پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے لیے دوستی کی نوید لایا اور جب علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کا تیرہواں سربراہی اجلاس جنوری میں اسلام آْباد میں منعقد ہوا تو بھارتی وزیراعظم اٹل بھاری واجپائی نے صدر مشرف سے ملاقات کر کے’جامع مذاکرات‘ شروع کرنے کا عہد کیا۔ سال دو ہزار چار امن و امان کے اعتبار سے اچھا نہیں رہا۔ جہاں سیالکوٹ کی جیل میں ججوں پر حملہ ہوا وہاں شکارپور سے تین سیشن جج اغوا بھی ہوئے۔ مفتی شامزئی سمیت کئی اہم مذہبی شخصیات کو ہلاک کر دیا گیا۔
ملتان، سیالکوٹ، لاہور، کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی عبادت گاہوں میں بم دھماکے ہوئے اور بیسیوں بےگناہ لوگ مارے گئے۔ فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں بھی خاطر خواہ کمی نظر نہیں آئی۔ ملک کے اندر خود کش حملوں کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز اور کراچی کے کور کمانڈر احسن سلیم حیات (جو اب نائب آرمی چیف ہیں) پر خود کش بمباروں نے حملے کیے۔ القاعدہ کے حامیوں کے خلاف کارروائی جاری رہی اور سینکڑوں شدت پسند ہلاک اور گرفتار ہوئے۔ مسلح جھڑپوں میں بیسیوں فوجی اور پولیس اہلکار بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔ اہم گرفتاریوں میں احمد خلفان، نعیم نور خان اور دیگر شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں امجد فاروقی اور نیک محمد خان قابل ذکر ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف واپس وطن پہنچے لیکن حکومت نے لاہور ائرپورٹ سے ہی انہیں واپس بھیج دیا۔ پیپلز پارٹی نے اس سال کو بینظیر بھٹو کی واپسی کا سال قرار دیا لیکن وہ نہیں آئیں۔
ملک میں حزب مخالف اور حکومت میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ اخباری مالکان اور ملازمین کی تنظیموں میں اجرتوں کے تعین پر بھی کشیدگی جاری رہی۔ یہ معاملہ عدالتوں میں اٹھایا گیا اور سڑکوں پر احتجاج بھی ہوئے۔ اخباری ملازمین کے بچوں نے پارلیمان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا لیکن تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ سال دو ہزار چار میں سرکاری ملازمین اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پارلیمان کے اراکین کے الاؤنسز میں بھی اضافہ کیا گیا۔ حزب اختلاف مہنگائی اور غربت میں اضافہ جبکہ حکومت ان مسائل پر کنٹرول کے دعوے کرتی رہی۔ سال دو ہزار چار کے دوران ملک میں آٹو موبائیل کی صنعت نے ترقی کی۔ بینکوں کی زیادہ تر سرمایہ کاری گاڑیوں کے لیے قرضہ فراہم کرنے میں رہی جس وجہ سے ملک کے اندر موٹر کار رکھنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا۔ اس سے جہاں لوگوں کو سہولت ملی وہاں ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔ دنیا کی دوسری بڑی پہاڑی چوٹی کے- ٹو سر کیے جانے کی گولڈن جوبلی تقریبات منعقد ہوئیں جس میں دنیا بھر سے کوہ پیما شریک ہوئے۔ پاکستان میں’برڈ فلو‘ نامی بیماری ظاہر ہوئی جس سے لاکھوں مرغیاں مر گئیں اور لوگوں نے مرغیاں کھانے سے کئی ماہ اجتناب برتا اور ایک موقعہ ایسا آیا کہ پولٹری کی صنعت کو بچانے کے لیے وزیر خوراک کو’ٹی وی چینلز‘ پر مرغی کھاتے دکھایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||