وزراء اور چوہوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمینٹ میں ان دنوں جہاں بڑی تعداد میں بنائے گئے وزراء کو چیمبرز الاٹ کرنے کا تنازعہ چل رہا ہے وہاں عمارت کے اندر چوہوں کے بڑھ جانے کا بھی خاصا چرچا ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت میں چوہوں کی موجودگی نے خاصی بےچینی کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ قومی اسمبلی کے سیکریٹری محمود سلیم محمود نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزراء کے چیمبرز کی الاٹمنٹ کا معاملہ سپیکر چوہدری امیر حسین جلد طے کریں گے۔ تاہم چوہوں کے خاتمے کے لیے انہوں نے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو فوری انتظامات کے لیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمان میں کُل تئیس چیمبرز یعنی وزراء وغیرہ کے دفاتر ہیں جبکہ وزراء کی تعداد باسٹھ ہے لہٰذا سب وزراء کو تو چیمبرز فراہم کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے حتمی فیصلہ سپیکر کریں گے کہ کس وزیر کو چیمبر ملے گا اور کس کو نہیں۔ سیکریٹری قومی اسمبلی نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ پانچ چیمبرز جو لازمی دینے ہوتے ہیں ان میں قائد حزب اختلاف، سینیئر وزیر، وزیر برائے پارلیمانی امور، چیف وپ اور اٹارنی جنرل شامل ہیں۔ پہلے تو پارٹی سربراہ ہی وزیراعظم ہوتے تھے اس لیے ان کے لیے چیمبر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس مرتبہ شوکت عزیز وزیراعظم کا چیمبر استعمال کر رہے ہیں لہٰذا حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو بھی ایک چیمبر چاہیے۔ محمود سلیم محمود نے کہا کہ ماسوائے قائد حزب اختلاف باقی تمام چیمبرز کو تالا لگا دیا گیا ہے اور وزراء کے ناموں کی تختیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں کبھی اتنی بڑی کابینہ نہیں بنی تھی اس لیے چیمبرز کا مسئلہ بھی نہیں ہوا تھا۔ سیکریٹری قومی اسمبلی کے مطابق چیمبرز کی کمی کے متعلق سپیکر نے وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وزراء کی تعداد بڑھ جانے سے چیمبرز کی کمی کے معاملے کے ساتھ ساتھ پارلیمینٹ کی عمارت کے اندر موٹے موٹے چوہوں کی تعداد بڑھنے کے معاملے پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ چوہوں کے بڑھنے کی وجہ کیفےٹیریا سمیت چھوٹی کینٹینز، وزیراعظم اور سپیکر سمیت مختلف چیمبرز میں قائم ’منی کچن‘ میں کھانے پینے کی اشیاء کی موجودگی کو بتایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||