گیارہ ستمبر کو یومِ مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبر کے موقع پر جہاں مذہبی جماعتیں پاکستان میں’یوم مذمت‘ کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں وہاں حکومت قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ترجمان شاہد شمسی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں مظاہرہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک بھر میں یوم مذمت کے سلسلے میں جلسے جلوس کیے جا رہے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یوم مذمت منانے کا مقصد دنیا پر واضح کرنا ہے کہ اصل دہشت گرد ان کے بقول امریکہ ہے جو دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے۔ امریکی سفارتخانہ ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے ہی بند ہے۔ تاہم امریکی سفارتخانے سمیت پورے سفارتی علاقہ میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ القاعدہ نے تین سال قبل گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سمیت اہم عمارتوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دنیا بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کی تھیں جو ابھی تک جاری ہیں۔ اس بار امریکہ میں گیارہ ستمبر کی تیسری برسی ایسے موقع پر انتخابی مہم بھی زوروں پر ہے۔ امریکہ پاکستان کو اہم اتحادی سمجھتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اب بھی پاکستانی فورسز کارروائیاں کر رہی ہیں اور حال ہی میں پچاس سے زائد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ مارے جانے والوں کے متعلق حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں بیشتر چیچن، ازبک اور عرب ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||