حسبہ بِل منظور کیا جائے: فضل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائد حزبِ اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت حسبہ بِل کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ صوبہ سرحد میں صوبائی حکومت اسلامی قدروں کے فروغ کے لیے ایک مسودہ قانون منظور کرانا چاہ رہی ہے جسے حسبہ بل کا نام دیا گیا ہے ۔ صوبہ میں ایم ایم اے کی حکومت اس بِل کو دو بار گورنر سرحد کو بھِجوا چکی ہے لیکن تاحال اس کی منظوری نہیں ہوسکی ہے۔ اتوار کو لاہور میں حسبہ بِل کے بارے میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور آئین پاکستان کی رو سے اور ہر لحاظ سے ان کا اسلام کے نفاذ کا مطالبہ جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوت بھی ان کے اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنے گی وہ ہی دہشت گرد کہلائے گی اور یہ کہ وہ اس کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ متحدہ مجلس عمل نے حسبہ بِل کے بارے میں اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں لاہور سے قبل کراچی میں بھی ایک سیمینار منعقد ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰان نے حسبہ بل پر لاہور میں ہونے والے سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حکمران مغرب کی زبان بول رہے ہیں اور وہ علماء اور مدارس کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاد اور دہشت گردی میں فرق ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی مذہب کی حکومت کے قیام کے حق پر جو کھڑا ہوگا وہ مجاہد کہلائے گا اور جو قوت اس حق کے راہ میں رکاوٹ بنے گی وہ ان کے بقول دہشت گرد کہلائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||