BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 August, 2004, 06:09 GMT 11:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایس پی انسداد فحاشی کی تعیناتی

فحاشی
یہ فیصلہ پشاور میں بدھ کے روز صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا
پاکستان کے صوبہ سرحد میں متحدہ مجسل عمل کی حکومت نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں انسدادِ فحاشی و عریانی کے لئے پولیس کا ایک اعلی افسر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ پشاور میں بدھ کے روز صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعلی اکرم خان دورانی نے کی۔

بعد میں صحافیوں کو کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال کا کہنا تھا کہ فحاشی اور عریانی کے خاتمے کے لئے سپرنٹینڈنٹ پولیس کے عہدے کا افسر تعینات کیا جائے گا۔

اس نئے عہدے کے لئے تعینات افسر عام شہریوں کی شکایت پر کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہوگا۔ یہ افسر کسی بھی جگہ فحاشی کی اطلاع پر تحقیقات کرکے اسے روکنے کے لئے اقدامات کریں گے۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق اس عمل کی نگرانی صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کریں گے۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل صوبائی حکومت نے آغاز سے ہی صوبہ میں عریانی اور فحاشی کے خاتمے پر مکمل توجو مرکوز کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں سینما گھروں سے بڑے اشتہارات اتارنے اور پولیس کی جانب سے بڑی تعداد میں فحش مواد جن میں سی ڈیز شامل ہیں کو نذر آتش کرنا چند اہم اقدامات تھے۔

لیکن بعض ایسے بھی اقدامات تھے جن کی وجہ سے اس پر کڑی تنقید بھی ہوئی۔ ان میں گزشتہ دنوں ایک صوبائی وزیر کی جانب سے حیات آباد کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ بھی شامل ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے مجوزہ حسبہ ادارے کی قیام کے بڑے مقاصد میں سے ایک فحاشی اور عریانی کا خاتمہ بھی ہے۔ لیکن چونکہ اس پر عوامی رائے ہموار کرنے میں مبصرین کے خیال میں اسے دقت پیش آرہی ہے لہذا حکومت نے اب اس نئے عہدے کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس فیصلے کے ناقدین کا یہ بھی اعتراض ہے کہ آیا عریانی اور فحاشی صرف پشاور میں ہی ہے جہاں کے لئے یہ عہدہ قائم کیا جا رہا ہے اور صوبے کے دیگر علاقہ اس معاشرتی برائی سے کیا پاک ہیں؟

صوبائی کابینہ نے دوسری جانب ایک اور فیصلے میں جیلوں میں پانچ برس سے زائد عرصے کی قید پانے والے شادی شدہ افراد کے لئے ازدواجی تعلقات قائم رکھنے کے لئے سہولت کی غرض سے چار بڑی جیلوں میں ایسے کمرے تعمیر کئے جائیں گے جن میں اٹیچ باتھ اور باورچی خانے کی سہولت موجود ہوگی۔

منظور کی گئی جیل اصلاحات کے تحت ان کمروں میں کسی جوڑے کو تین روز اکٹھے گزارنے کی اجازت ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد