پولیس کو باجماعت نماز کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پولیس سمیت کئی دیگر محکموں میں باجماعت نماز کے اہتمام کا حکم دیا ہے۔ صوبہ سرحد میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کی آج کل تمام تر توجہ بظاہر نظام صلوۃ کے قیام پر مرکوز نظر آتی ہے۔ صوبائی وزراء جگہ جگہ نظام صلوۃ کے قیام کے اعلانات میں مصروف ہیں جبکہ سرکاری سطح پر بھی نماز کے باقاعدہ اہتمام کے لیے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس سمیت کئی دیگر محکموں میں نماز کی پابندی کو لازمی قرار دیتے ہوئے دوپہر ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان باجماعت نماز کے اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ جن دفاتر میں مساجد کا مناسب انتظام نہیں وہاں اس کے لئے عارضی انتظامات کیے جائیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس سرحد کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں تمام پولیس دفاتر ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان بند کرنے اور اس دوران باجماعت نماز کا اہتمام کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے قبل صوبائی حکومت نے سرحد میں تمام تاجر برادری سے بھی اوقات نماز کے دوران کاروبار بند کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس موقعہ پر وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے وعدہ کیا تھا کہ تمام صوبے میں بیک وقت اذان اور نماز کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بابت صوبائی اہلکاروں کو ایک نظام الاوقات تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن اس جانب ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ مبصرین کے خیال میں نظام صلوۃ کے قیام کے اعلان کے بارے میں ابھی تک نہ تو کوئی کھلی مخالفت اور نہ حمایت سامنے آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||