پشاور یونیورسٹی: نیٹ کیفیز بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کی سب سے بڑی درسگاہ پشاور یونیورسٹی میں حکام نے نجی نیٹ کیفیز پر غیراخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے پابندی لگا کر انہیں بند کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں تقریباً نیم درجن نجی کیفے اس درسگاہ میں تعلیم حاصل کر رہے نوجوانوں میں کافی مقبول تھے۔ یورنیوسٹی حکام نےگزشتہ ماہ ان کیفیز کو تیس جون تک بند کرنے کے نوٹس جاری کئے تھے۔ کئی طالب علموں کے مطابق اس فیصلے کی اصل وجہ گزشتہ ماہ ایک کیفے پر پولیس اور طلبہ کے درمیان تصادم تھا۔ کئی طلبہ کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ یورنیورسٹی انتظامیہ طلبہ پر ان کیفیز میں فحش ویب سائٹس دیکھنے کا الزام لگاتی ہے۔ ان کیفیز کو استعمال کرنے والے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سٹڈیز کے ایک طالب علم محمد امجد کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نامناسب ہے۔ ’طلبہ یہاں تحقیق کے لئے یا ای میل استعمال کرنے آتے تھے۔ یہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے قریب تھے اس لئے ہم لوگ فارغ وقت میں یہیں چلے جایا کرتے تھے۔ انہیں وہ طلبہ بھی استعمال کرتے تھے جو یہاں کے ہاسٹلز میں قیام پذیر ہیں۔‘ لیکن کچھ لوگوں کے خیال میں اس اقدام کا اصل مقصد کچھ اور ہی تھا۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ اگست سن دو ہزار دو میں یونیورسٹی نے ایک کمپیوٹر سینٹر قائم کیا تھا جو خسارے میں چل رہا تھا۔ لہذا اسے بچانے کی خاطر بھی یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ بند کئے جانے والے ایک کیفے کے مالک ساجد خان انتظامیہ کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام فحش سائٹس کو بلاک کر رکھا تھا اور ان کے گاہکوں میں طالبات بھی شامل ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کئی لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے پرووسٹ ڈاکٹر امتیاز کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ ان کیفیز کی وجہ سے درسگاہ میں امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سینٹر میں ستر نئے کمپیوٹر نصب کیے گئے ہیں جبکہ خواتین کے لیے الگ جگہ مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کے پیچھے متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے دباؤ کے تاثر کی تردید کی اور کہا کہ انہیں ایسا کوئی حکم نہیں ملا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||