سرحد: ایم یم اے کے خلاف مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز مرکز میں حکمراں جماعت مسلم لیگ کی سرحد شاخ نے صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کی پالسیوں کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔ اگرچہ حکومتی سطح پر مرکز اور سرحد کے درمیان اچھے تعلقات کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن جماعتی سطح پر صورتحال یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ مرکز میں حکمراں مسلم لیگ تو اتنا نہیں لیکن صوبائی سطح پر سرحد میں اس کی شاخ متحدہ مجلس عمل پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ آج بھی اسی سلسلے میں ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کی پالسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک کے سلسلے میں مسلم لیگ نے پشاور پریس کلب کے سامنے ایک بڑا احتجاجی کیمپ لگایا۔ اس کیمپ میں مسلم لیگ کے علاوہ مسلم لائرز وِنگ کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ کیمپ کو ایم ایم اے مخالف بیانات سے سجایا گیا تھا۔ اس احتجاجی تحریک کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کا مجوزہ حسبہ بِل ہے جس کے تحت وہ اسلامی اقدار کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے ایک ادارے کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں مسلم لیگ کے مرکزی رہنما معظم بٹ اور انتخاب خان نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ حسبہ کے ذریعے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اس مجوزہ بل کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے عوام کی توجع اصل مسائل سے ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیا۔ صوبائی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس ادارے کا قیام اور صوبے میں نفاذ شریعت اس کے انتخابی وعدوں میں سے ہیں جسے وہ پورا کر رہی ہے۔ مسلم لیگ اپنی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں مجوزہ حسبہ بل پر ایک سیمنار کا اعلان بھی کرچکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||