حسبہ بل کا کیا بنا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فیصلے کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں جس میں اس نے مجوزہ حسبہ بل کو مسترد کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت اس بل کے تحت حسبہ ادارے کے قیام کی خواہاں ہے جس کے ذریعے اس کا کہنا ہے کہ صوبے میں شریعت کا نفاذ ممکن ہوسکے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا جس میں سرحد حکومت کے مجوزہ حسبہ بل پر غور ہوا تھا۔ یہ بل گورنر سرحد نے کونسل کو غور کے لئے بھیجا تھا۔ لاہور سے شائع ہونے والے زوزنامہ ’ڈیلی ٹائمز‘ کی ایک خبر کے مطابق کونسل کے نئے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے اجلاس میں حسبہ کے مجوزہ بل پر غور کی تصدیق کی لیکن اس سے زیادہ کچھ بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کو کونسل کے فیصلے بتانے کے پابند نہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ کونسل نے اس سلسلے میں چند سفارشات سرحد حکومت کو ارسال کی ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر اس بل کو مسترد کر دیا۔ ان اراکین کا موقف تھا کہ اس ادارے کے قیام سے ایک متوازی عدلیہ قائم ہوجائے گی جس سے انتظامی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس ادارے کے قیام سے کونسل کے مطابق مرکز اور صوبے کے درمیان تلخیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ البتہ کونسل نے اپنی سفارشات میں آئین کا تقاضہ پورا کرتے ہوئے سرحد حکومت کو صوبائی اور ضلعی محتسب تعینات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایم ایم اے حکومت کی قائم کردہ نفاذ شریعت کونسل کے سربراہ مفتی غلام الرحمان نے آج اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فیصلے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی ایسے کسی فیصلے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ صوبائی حکومت حسبہ کے ادارے کے قیام سے صوبے میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے البتہ اس کے مخالفین اسے مولویوں کا مارشل لا قرار دیتے ہوے مسترد کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||