کوئی پریشر گروپ نہیں ہے: درانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نےبدھ کو دینی جماعتوں کے حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل میں کسی پریشر گروپ کے قیام کی تردید کی ہے۔ تاہم انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی نے ایسا گروپ تشکیل دینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف آئین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ نے صوبے کی پہلی خواتین یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بدھ کے اکثر اخبارات متحدہ مجلس عمل کے بارہ اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل احتساب نامی باغی گروپ کے قیام کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ تاہم اس گروپ میں شامل اراکین کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔ صحافیوں سے بات چیت میں وزیر اعلی اکرم خان دورانی کا کہنا تھا کہ ایسے کسی گروپ کی تشکیل صرف اخبارات تک ہی محدود ہے۔ ساتھ میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ انہیں نہ تو کوئی بلیک میل کر سکتا ہے اور نہ ان پر کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ شکایات، اختلافات یا ناراضگیاں تو ایک گھر میں بھی ہوتی ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جاتا ہے۔ البتہ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایم ایم اے کے کسی رکن نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی تو اس کا معاملہ فورا سپیکر کو بھیج دیا جائے گا۔ مجوزہ حسبہ بل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے اتحاد کی مرکزی قیادت کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ مبصرین کے خیال میں اس درس گاہ کے قیام سے ایم ایم اے کی حکومت مخالفین کے اس پروپیگنڈے کا مقابلہ بھی کرنا چاہتی جس میں اسے خواتین کی ترقی کا مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||