وردی کے خلاف رابطہ مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے جسے ’اے آر ڈی‘ بھی کہتے ہیں، اکیس ستمبر سے صدر مشرف کی پالیسیوں، سترویں آئینی ترمیم اور وردی نہ اتارنے کے خلاف رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جمعے کے روز اتحاد کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے اقبال ظفر جھگڑا نے کیا۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ سترویں آئینی ترمیم کا ہے جس نے آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے لہٰذا ان کی مہم کا فوکس آئینی ترمیم کے خاتمے پر ہوگا جس میں وردی بھی شامل ہے۔ اے آر ڈی کے مرکزی رہنما نے بتایا کہ اتحاد کا آئندہ سربراہی اجلاس بیس ستمبر کو کوئٹہ میں ہوگا اور اکیس ستمبر کو کوئٹہ بار کونسل سے خطاب کرکے مہم کا آغاز کیا جائے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں میں بار کونسلوں سے خطاب کا شیڈول بعد میں ظاہر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکتیس دسمبر تک وردی اتارنے کی مدت متحدہ مجلس عمل نے دی تھی جبکہ اے آر ڈی کا شروع دن سے موقف رہا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں صدر مانتے ہی نہیں۔ حزب اختلاف کے اتخاد کے رہنمانے کہا کہ وکلاء برادری اور سیاسی جماعتوں سے رابطے کرکے ملک میں مکمل جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اگر ان کی جدوجہد میں شامل ہوگی تو وہ انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا اتحاد کیوں بڑی تحریک نہیں چلا پایا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج ملک میں جو بھی لولی لنگڑی جمہوریت ہے وہ ان کے اتحاد کی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں قبائلی علاقوں بالخصوص جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں فوجی کاروائیوں کی مذمت کرنے، بڑی کابینہ تشکیل دینے اور مسئلہ کشمیر کے متعلق حکومت پر موقف تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مذمتی قرادادیں بھی منظور کی گئیں۔ صدر سے وردی نہ اتارنے کی اپیلیں کرنے والوں کے متعلق ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اے آر ڈی سمجھتا ہے کہ احتساب بیورو کو مطلوب اور غیر مقبول سیاسی رہنما ایسی باتیں کر رہے ہیں جو فوج کی چھتری تلے اپنی سیاسی بقا سمجھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||