ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 |  سوئی میں بگٹی قبائل نے پہاڑوں پر مورچہ بندی کر رکھی ہے |
صوبہ بلوچستان میں سوئی کی صورتحال پر غور کے لیے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کل جماعتی کانفرنس شروع ہوئی ہے۔ ایم پی اے ہاسٹل میں منگل کی صبح دس بجے سے جاری کانفرنس میں صوبے کی تقریبا تمام بڑی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ اس کانفرنس کا اہتمام چار جماعتی بلوچ اتحاد نے کیا ہے۔ کانفرنس کی صدارت نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بزرگ قوم پرست سیاستدان ڈاکٹر حئی بلوچ کر رہے ہیں۔ اجلاس میں جے ڈبلیو پی، بی این پی، بی این پی (عوامی) ، اے این پی، پی ایم اے پی، مسلم لیگ (ن) کے علاوہ حزب اقتدار کی جے یو آئی اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور نمائندہ شرکت کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ اجلاس میں سوئی میں جھڑپوں سے پیدا صورتحال اور اس سے متعلق وفاقی حکومت کے اب تک کے ردعمل پر غور ہوگا۔
 |  اسلام آباد اور ملک کے دوسرے حصوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی ہے |
اجلاس کے اختتام پر اخباری کانفرنس میں اس کے فیصلوں سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا جائے گا۔ ادھر سوئی میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم بلوچستان ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ایک ٹرائبونل نے ایک پولیس افسر کا بیان قلمبند کیا۔ البتہ خاتون ڈاکٹر شازیہ خالد نے ٹرائبونل کے جج جسٹس احمد خان لاشاری کو فیکس کے ذریعے صحت کی خرابی کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کر لی۔ اب خیال ہے کہ ٹرائبونل مزید بیان عید کے بعد ریکارڈ کرے گا۔ دریں اثنا، نصیرآباد کے ضلعی پولیس افسر خالد محمود ڈوگر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سوئی میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کو چھپانے کی مبینہ کوشش اور پولیس سے تعاون نہ کرنے پر سوئی پلانٹ چلانے والی کمپنی پی پی ایل کے منیجر پرویز جمبولا اور دو ڈاکٹروں محمد عثمان اور محمد علی کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ |