بلوچستان: پسماندگی اور شکایتوں کا لاوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پسماندگی کی وجہ سے محرومیوں اور شکایتوں کا لاوا ایک مرتبہ پھر اُبل رہا ہے۔ پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے اس سب سے بڑے صوبے کا شاید مسئلہ اتنا بڑا نہیں جتنا کہ بنا دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور بلوچ قوم پرستوں کی سوئی بظاہر وہیں اٹکی ہوئی ہے جہاں شاید صوبے کے قیام کے وقت تھی۔ کوئی بھی اپنے موقف سے ٹس سے مس ہونے کی کوشش نہیں کر رہا۔ صوبہ میں پہلے پرتشدد واقعات ہوتے ہیں پھر بات مذاکرات تک پہنچتی ہے۔ اور پھر کچھ نہیں ہوتا۔ بات آگے پیچھے ہوجاتی ہے۔ لوگ بھولنے لگتے ہیں کہ تشدد کا ایک اور دور شروع ہو جاتا ہے۔ سکیورٹی دستوں پر حملے تو کافی عرصے سے جاری ہیں لیکن ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بلوچ عسکریت پسندوں نے اپنے غصہ کا لاوا سوئی کے مقام پر اُگلا۔ ایک اور فوجی کارروائی کی باتیں ہونے لگیں اور مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کے قیام سے کسی پیش رفت کی امید پیدا ہونے سے قبل ہی دم توڑ گئی۔ اصل مسئلہ ہے کیا اور بلوچ قوم پرستوں کی حقوق کی جنگ کیا رخ اختیار کر رہی ہے؟ یہی سوالات ہیں جو آج جواب طلب ہیں۔ بلوچستان میں قیام پاکستان سے اب تک تین مرتبہ فوج کشی ہو چکی ہے۔ گزشتہ دنوں سوئی میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر فوجی کارروائی کے خدشات کو جنم دیا۔ ایک خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی زیادتی کے واقعے نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے آٹھ افراد کو نگل لیا۔یہ واقعہ یقینا انفرادی تھا لیکن اس کے نتیجے میں مقامی بگٹی قبیلہ پرُتشدد ردعمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ سوئی میں حاجی سبزل خان کا انداز بیان اتنا نرالا کہ سننے میں بھی مزہ آیا۔ سفید ریش شخص کا کہنا ہے کہ انہیں خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کا دکھ ہوا ہے۔ ’ہماری بھی کوئی غیرت عزت ہے کہ نہیں۔ ہم اپنے علاقہ میں زناء کی اجازت کیسے دے دیں؟‘ سوئی کا دورہ کرکے یہ تاثر بھی ملا کہ تمام بگٹی قبیلہ دل و جان سے سوئی پلانٹ کو اپنا قیمتی اثاثہ تصور کرتا ہے۔ سوئی کے ایک رہائشی حفیظ اللہ کا جو گاڑی چلاتا ہے کہنا تھا کہ پلانٹ تو ان کی دودھ دینے والی گائے ہے۔ اس کو تو ہم نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ سوئی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران پلانٹ کو نہیں بلکہ اُن چند فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس اجتماعی زیادتی میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کا کہنا تھا کہ ان کا نشانہ پلانٹ کی حفاظت پر مامور ڈیفنس سروسز گروپ کے وہ فوجی تھے جوکہ اس اجتماعی زیادتی میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ ان کا موقف ہے کہ پچاس فٹ اونچے پلانٹ کو ہٹ کرنا تو اندھے کے لئے بھی ناممکن نہیں تھا۔ یہ تو گولیوں کے تبادلے کے دوران ایک آدھ گولی یا مارٹر ہی پائپ یا کسی پرزے کو لگا۔ ان کا موقف ہے کہ گیس تنصیبات کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا کہ بتایا جا رہا ہے۔ مقامی ٹیکنیشیئنز اور عملے کو اجازت دیں تو وہ دو تین گھنٹے میں گیس سپلائی بحال کر سکتے تھے۔ حفیظ اللہ جیسے اچھا خاصا ڈرائیوری کرنے والے کی بھی خواہش ہے کہ اسے نوکری پلانٹ میں ضرور ملے۔ ’بھئی ڈرائیوری میں تو کبھی سات آٹھ سو بن جاتے ہیں لیکن کبھی کوئی خرابی ہو تو کچھ نہیں بچتا۔ پلانٹ میں نوکری ہمارا حق ہے ہمیں کیوں نہیں دیتے؟ دیکھوں ہماری زمین کیسی بنجر ہے یہاں ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟‘ سوئی میں تصادم کی وجہ صرف عزت و ناموس ہی نہیں بلکہ کئی اور وجوہات بھی تھیں۔ کوئٹہ سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روزنامے کے ایڈیٹر صدیق بلوچ کے خیال میں مسئلہ کی جڑ معاشی مفادات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گیس سے ملنے والی روایلٹی یا سرچارج کی مدد میں رقم صوبائی حکومت کو ملتی ہے جبکہ مقامی افراد کو کچھ نہیں ملتا۔ ان افراد کو صرف زمین کا کرایہ ملتا ہے جن کی اراضی پر پلانٹ واقعہ ہے۔ یہ رقم نواب بگٹی یا دوسرے لوگوں کو سال دو بعد موصول ہوتی ہے جو متعلقہ افراد میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ مقامی آبادی کو نوکریاں ان کے خیال میں ان کی تناست سے نہیں ملیں۔ ان کے خیال میں مقامی افراد کا نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے غصہ کا ایک ہدف ڈی ایس جی گروپ کے فوجی ہیں۔ ’یہ چھ سات سو فوجی محض چوکیداری کا کام کر رہے ہیں۔ یہ کام تو قبائلی بھی کر سکتے ہیں۔‘ دوسری جانب سیاسی تجزیہ نگار اسے سال ہا سال سے صوبے کے قوم پرستوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کے حصول اور تقسیم کی جاری جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ایک بلوچ دانشور انور ساجدی بھی اس سے متفق نظر آتے ہیں۔ بلوچ رہنما صوبائی خودمختاری سے ایک قدم آگے اختیار کا مطالبہ کر رہے ہیں یعنی اپنے وسائل پر مکمل اختیار۔ جبکہ ان کے خیال میں مرکز صوبوں کو پچپن برسوں میں صوبائی خودمختاری بھی نہیں دے سکا۔ ’یہ جنگ ہے ان دو نظریات کے درمیان جن میں سے ایک مضبوط صوبے مانگتا ہے جبکہ دوسرا مضبوط مرکز کے حق میں ہے۔‘ اردو روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹر انور ساجدی بلوچستان کے مسئلے کے حل میں تاخیر کی ایک وجہ بلوچ سیاسی قیادت کے موقف میں ابہام کو بھی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچ قیادت بھی عوام کو ایک واضح پروگرام یا مستقبل کا خاکہ نہیں دے سکیں ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے صدر پرویز مشرف اور بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی سے کافی اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کا ماننا ہے کہ صدر پرویز مشرف صوبہ کی حالت تبدیل کرنے کا پورا پورا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اب اس کی تجاویز پر عمل بھی ہوگا جس سے صوبے میں واضح تبدیلی جلد نطر آئے گی۔ البتہ ڈیرہ بگٹی میں اپنے سینکڑوں محافظوں کی ہر وقت موجودگی میں اپنی رہائش گاہ سے نواب بگٹی آج کل ایک مرتبہ پھر مرکز کے خلاف بیانات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی ان قوم پرستوں میں شامل ہیں جو اب وفاق کی جانب سے مذاکرات کے عمل کو بے سود قرار دے رہے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی کا کہنا ہے کہ میر خیر بخش مری نے پہلے اور بعد میں سردار عطا اللہ مینگل نے اس کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ’اب ہمارے خلاف فوج کشی ہو رہی ہے تو میرے خیال میں تو یہ اب ایک مذاق بن گئی ہے۔ ’دی پراسس از ڈیڈ۔‘‘ محرومیوں اور ناانصافیوں کو وجہ بناتے ہوئے بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بلوچ قوم پرست سیاستدان سینیٹر ثناء اللہ بلوچ کے مطابق اس میں تیزی کے امکانات زیادہ ہیں۔ ’جب ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں میں بلوچ نوجوانوں کو روزگار مہیا نہیں اور ان کی نمائندگی نہیں تو ان سے انہیں کیا فائدہ۔ اب تک وہ انہیں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اور وفاق کی نوآبادیاتی پالیسیاں دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ ان ہرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو۔‘ بلوچستان میں ہر صوبائی حکومت وفاق سے صوبے کے مالی مسائل جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتی آئی ہیں۔ تاہم بات کم ہی آگے بڑھی ہے۔ گیس روائلٹی اور ڈویلپمنٹ سرچارج جیسی شکایات آج بھی برقرار ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ ان شکایات کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے تاکہ پرتشدد کارروائیوں کا جواز ختم ہوجائے۔ صوبائی وزیر صحت مولانا حمد اللہ نے بتایا کہ انہیں محرومیوں کو جواز بنا کر امن و امان کی صورتحال کو خراب کرتے ہیں۔ ’اگر یہ مسائل حل ہوجائیں تو نہ رہے گی بین اور نہ بجے گا باجا۔‘ بلوچ شاعر اپنے گیتوں میں اس بنجر سرزمین کو باغ و بہار قرار دیتے آئے ہیں۔ لیکن اس بہار کو سدابہار بنانے کے لئے بلوچ شکایات کا ازالہ، شقوق وشبہات اور استحصال کا خاتمہ ہنگامی بنیادوں پر ضروری ہے۔ ورنہ شدت پسندی کی جو لہر آئی ہے وہ خدشہ ہے کہ مزید کوئی خطرناک صورت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||