بلوچستان باغی کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں جاری حالیہ تشدد کی لہر اور قوم پرست حلقوں اورفوج کے درمیان جاری تناؤ کےپس منظرمیں ایک بلوچ رہنما کے بیٹے شہریارمزاری نے بی بی سی کے لئےاِس آرٹیکل میں صورتحال پر اپنےخیالات کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان میں جاری تشدد کے پس منظر میں صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں سخت الفاظ میں بلوچ قبائیلیوں کو دھمکی دی کہ ’انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ انہیں کس چیز سے مارا گیا۔‘ جنرل مشرف تو شائد اُس نئے جدید اسلحے کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو پاکستانی فوج کواسلامی شدت پسندوں کے خاتمے کے لئے دیا گیا ہے اور جس میں رات کے وقت اندھیرے میں حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ لیکن جنرل مشرف کے بیان کا بالکل ہی الٹ اثر ہوا اور ایسے بلوچ شہری نوجوان جو عموماً فوج کے حمایتی تصور کئے جاتے تھے اس کے خلاف ہوگئے۔
بلوچستان میں اس مزاحمت کی جڑیں خود بلوچ ثقافت میں پوشیدہ ہیں۔ بلوچ قوم کی ایک الگ اور منفرد شناخت صدیوں سے قائم ہے اور یہاں برطانوی راج کو بھی مقامی قبائیلیوں کے ساتھ مفاہمت کرکے انہیں خودمختاری دینا پڑی تھی۔ بلوچستان کو 1948 میں زبردستی پاکستان میں شامل کرلیا گیا اور اس وقت سے اس کے باسی اسلام آباد کے خلاف تین مرتبہ ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔ بلوچستان میں ستر کی دہائی میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے لئے فوج کی کئی ڈویژنز اور ہوائی بمباری کا استعمال کرنا پڑا تھا۔ لیکن قبائیلی فخر خاصہ تباہ کن بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ 1973 میں اسلام آباد نے مری اور مینگل قبیلوں کی قیادت والی بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی اور بگٹی قبیلے کے سردار جنہیں اِن قبیلوں سے خطرہ تھا اسلام آباد کی طرف سے صوبے کے نئے گورنر بننے پر رضا مند ہوگئے۔
لیکن انہوں نے بعد میں خفیہ طور پر مینگل اور مری قبائیل کے سرداروں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن بحال کرلیا جس کے نتیجے میں اسلام آباد کے خلاف ایک بڑی بغاوت ہوئی اور سینکڑوں افراد فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ اسِ آخری بغاوت کے بعد سے اسلام آباد نے ہمیشہ یہ یقینی بنایا ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت اسُ کی وفا دار رہے۔ چند چھوٹے وبلوچ رہنماؤں اور پختون ملاؤں کی حمایت کے ساتھ جنرل مشرف کی حکومت نے مسلسل صوبائی حکومت کی کرپشن کو نظر انداز کیا ہے۔ بلوچستان میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ صوبے کے اسًی فیصد فنڈز سیاستدانوں اور بیوروکریٹ کی جیبوں میں جاتے ہیں۔ اسلام آباد کی طرف سے حال میں صوبے میں دو بڑے پروجیکٹ ، سینڈک اور گوادر پورٹ شروع کئے گئے ہیں جس کی مقامی سطح پر سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ گوادر میں بلوچیوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں پچھتر فیصد زمین کوڑیوں کے دام حاضر سروس فوجی افسروں نے خرید لی ہیں۔ گوادر پروجیکٹ میں زیادہ تر ملازمتیں غیر بلوچیوں کو دی گئی ہیں۔ ان سب عناصر سے گوادر کے علاقے میں بنیادی تبدیلیوں کا خطرہ ہے اور اندیشہ ہے کہ کچھ برسوں میں یہاں پنجابیوں اور پختونوں کی آبادی بلوچوں سے بڑھ جائے گی۔ مقامی دانشور حلقے پہلے ہی خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ آئندہ پندرہ برس تک صوبے کا وزیر اعلیٰ پنجابی بولنے والا ہوگا۔ اور حال میں بگٹی قبائیل کے علاقے میں فوجی افسر اور اس کے تین ساتھیوں کی طرف سے ایک لیڈی ڈاکٹر کے مبینہ گینگ ریپ نے حالات کو مزید ابتر کردیا ہے۔ اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شائد بگٹی قبیلے کے 78 سالہ سردار اکبر بگٹی بلوچی عظمت کو بچانے کے لئے اپنی جان بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہ کریں۔ اور اگر وہ ایسا کرتے ہوئے فوج کے ساتھ تصادم میں اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں تو یہ سخت بیانات دینے والے جنرل مشرف کے لئے بہت سی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||