’مشرف کے بیان نے حالات بگاڑ دیئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کو بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلوچ ہتھیار بندوں کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان کو کس چیز سے مارا گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی، مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار اور متحدہ مجلس عمل کے پروفیسر خورشید کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کا اگر فوری سیاسی حل نہ نکالا گیا تو ملک میں وہی حالات پیدا ہو جائیں گے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت تھے۔ سینیٹ میں بلوچستان کے مسئلے پر جمعہ کی صبح بحث کا دوبارہ آغاز ہوا تو اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے حکومت خصوصاً صدر جنرل پرویز مشرف پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بھارت کے ساتھ تو امن کی باتیں کرتی ہے مگر اپنے ملک کے ایک صوبے کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جس طرح حکومت بلوچستان کے معتدل سیاسی عناصر کو دیوار سے لگا رہی ہے اس سے صوبے میں ایک سیاسی خلا پیدا ہو گا جو پھر صرف انتہا پسند عناصر ہی پُر کریں گے۔ سینیٹر نے کہا کہ حکومت کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ مضبوط مرکز مضبوط پاکستان کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں پچھلے کئی برس سے حکومت سے کہہ رہی ہیں کہ پاکستانی فوج کی افغانستان میں سٹریٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی کے نتیجے میں ملک میں بھاری مقدار میں اسلحہ لایا گیا ہے جو سرحد کے علاقے لنڈی کوتل میں بک رہا تھا۔ اسفندیار نے کہا کہ لنڈی کوتل کے بازاروں میں راکٹ لانچر چار ہزار روپے جبکہ راکٹ پچاس روپے میں فروخت ہوتے رہے ہیں جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلحہ کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اے این پی کے صدر نے کہا کہ جو قومیں اپنی پالیسیوں پر یو ٹرن لیتی ہیں ان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے سوئی میں چھاؤنی کے منصوبے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ملک کے اندرونی حصوں میں چھاؤنیاں قائم کرنا انگریزوں کے دور کی روایت تھی جس کو موجودہ حکمران دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر اسحاق ڈار نے کہا کہ بلوچستان کے عوام احساس محرومی کا شکار ہیں اور بدقسمتی سے جب پالیمنٹ کی بلوچستان کے بارے میں کمیٹیوں کے ذریعے اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گوادر میں زمین پر چند حکومتی افراد اور بلوچستان کے چند وزیروں نے قبضہ کر کے اس کو مہنگے داموں بیچنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیمنٹ کی کمیٹی بھی بلوچستان کے مسئلے پر تاخیر کر رہی ہے جس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔ متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر پروفیسر خورشید کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کا بلوچوں کے بارے میں بیان دراصل ایک اعلان جنگ تھا جس نے صوبے کے حالات بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ مرکز اور صوبوں کے درمیان خیرات کی تقسیم کا نہیں ہے بلکہ بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ پروفیسر خورشید نے کہا کہ اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ وہ کون ہے جو وہی کھیل کھیل رہا ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت کھیلا گیا تھا۔ حکومتی رکن اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے تناظر میں آئین میں ترمیم کی کوشش ہو رہی ہے اور بلوچستان کے عوام کے لئے ایک پیکج لایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||