کالا باغ ڈیم، رپورٹ جلد آئےگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں متنازعہ کالاباغ ڈیم سمیت پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم بنانے کے بارے میں قائم کردہ اعلیٰ سطحی’ٹیکنیکل کمیٹی‘ نے مشاورت کر لی ہے اور جلد ہی صدر اور وزیراعظم کو رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ اس بات کا اعلان کمیٹی کے چیئرمین عبدالنبی عباسی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کمیٹی کا مقصد کالاباغ یا بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ ان کے مطابق متعلقہ کمیٹی کا مقصد مجوزہ بڑے آبی ذخائر کا تکنیکی اعتبار سے جائزہ لے کر اپنی رائے دینا ہے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے متنازعہ کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی خاطر چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر تاحال صوبہ پنجاب اور سندھ کے دورے کر چکے ہیں جبکہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی وہ جلد جائیں گے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر چار میں سے پنجاب کے علاوہ باقی تین صوبوں کی اسمبلیاں ایک سے زیادہ بار مخالفت میں قراردادیں منظور کر چکی ہیں اور گزشتہ تین دہائیوں سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کالاباغ ڈیم کا تاحال نام لیے بغیر کہتے رہے ہیں کہ ’بڑے ڈیموں کی تعمیر پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے‘۔ اب تک صدر کی جانب سے کسی ڈیم کی تعمیر کے اعلان میں تاخیر کا سبب بھی تکنیکی کمیٹی کی رپورٹ میں دیر بتائی جاتی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بڑے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے سلسلے میں دو کمیٹیاں بنائی تھیں جس میں تکنیکی کمیٹی کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی بھی شامل تھی۔ دونوں کمیٹیوں کے سربراہ سندھی مقرر کیے گئے کیونکہ سندھ صوبے کی کئی سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ان کے صوبے کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نثار میمن ہیں جو اپنی رپورٹ مکمل کر کے صدر کو پیش کر چکے ہیں۔ سینیٹر میمن نے جب اخباری بیانات میں دبے انداز میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی حمایت کی تھی تو کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر قوم پرست جماعت کے کارکنوں نے’سیاہ توا‘ لٹکا کر ان کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||