BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 January, 2005, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قوم بڑے ڈیم کی خوشخبری سنے گی

مشرف
اوکاڑہ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال ہے
آج صدر پرویز مشرف نے اوکاڑہ میں سخت حفاظتی انتظامات میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اور مذہبی انتہاپسندوں کے مقابلہ کے لیے اعتدال پسند جماعتوں کو متحد ہونے کا مشورہ دیا۔

پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے چئیرمین اور وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی دعوت پر صدر مشرف اوکاڑہ میں آج جلسہ سے خطاب کیا۔ جلسہ گاہ شہر سے تقریبا دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ڈسٹرکٹ کمپلکس کے نیو اسٹیڈیم میں بنائی گئی تھی جہاں دیہاتوں سے ہزاروں لوگوں کو پولیس کی پکڑی ہوئی بسوں اور ویگنوں میں لایا گیا تھا۔

اوکاڑہ کے ملٹری فارمز پر سینکڑوں مزارعین نے جلسہ گاہ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں فارمز پر ہی روک دیا۔ مزارعین زمین کی ملکیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ لوگ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور حکمران جماعت مسلم لیگ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جس پر صدر مشرف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے ایک ساتھ لہرا رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتہا پسند جماعتوں سے مقابلہ کے لیے ملک کی تمام اعتدال پسند قوتیں اکٹھی ہوجائیں۔

فوجی وردی میں ملبوس صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ملک ان کے دور میں معاشی طور مستحکم ہوا اور قرضوں سے آزاد ہوگیا ہے۔

صدر مشرف کی تقریر کا بڑا حصہ اپنے دور میں کیے گئے معاشی اقدامات اور ترقیاتی کاموں کے ذکر پر صرف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قوم جلد ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کی خوشخبری سنے گی۔

صدر مشرف کی تقریر سے یوں لگتا تھا جیسے وہ معاشی ترقی اور اعتدال پسندی کو اپنی سیاست کے بڑے نعروں کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف آج صبح ہی سے اوکاڑہ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال تھی کیونکہ جلسہ گاہ کی طرف جانے والی سڑکیں عام ٹریفک کے لیے بند کردی گئی تھیں۔ حکومت نے شہر میں جگہ جگہ صدر مشرف کی تصاویر لگائی ہوئی تھیں۔

صرف پیدل افراد کو جلسہ گاہ تک جانے کی اجازت تھی اور وہ بھی اپنے ساتھ موبائل فون نہیں لے جا سکتے تھے۔جلسہ گاہ کے اوپر صبح ہی سے ایک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتا رہا۔ پولیس شہر میں گاڑیوں کی سیکیورٹی چیکنگ کررہی تھی اور جگہ جگہ ناکہ لگائے گئے تھے۔

جلسے کی کوریج کے لیے صرف سرکار کی طرف سے جاری کیے گئے سیکیورٹی پاس رکھنے والے صحافیوں کو جانے کی اجازت تھی تاہم فوٹوگرافی کے لیے صرف سرکاری میڈیا کو اجازت دی گئی۔

آرمی چیف کا عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد یہ صدر جنرل پرویز مشرف کا پنجاب میں دوسرا عوامی جلسہ تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کی دعوت پر گجرات کے نواح میں اسی طرح کے ایک جلسے سے خطاب کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد