BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 December, 2004, 07:54 GMT 12:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالا باغ پر جلد فیصلہ ہوگا: مشرف

پرویز مشرف
صدر مشرف نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا
صدر جنرل پرویز مشرف نے لیاری سے گوادر تک چھ سو پچہتر کلومیٹر طویل ساحلی شاہراہ کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کرنے والے لوگ علاقے اور لوگوں کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

اورماڑہ میں شاہراہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ، ساحلی شاہراہ، میرانی ڈیم اور دیگر منصوبے اس علاقے کی تقدیر بدل دیں گے۔ گوادر سے افغانستان اور پھر وسطی ایشیا تک سڑکوں سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی اور اقتصادی ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ گوادر اب بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف قوم پرست جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ گوادر منصوبے سے آبادیاتی صورتحال میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور ماہی گیری کی صنعت تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ ان کا کہا ہے کہ وہ صوبے کے تمام اضلاع کی ترقی برابری کی بنیاد پر چاہتے ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ ساحلی شاہراہ کی تعمیر سے علاقے کے لوگوں کو سہولیات دستیاب ہوں گی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مکران ڈویژن میں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کہ برابر ہیں۔ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء مہنگی ہیں یا دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔ اب اس شاہراہ سے کم از کم مقامی لوگ کراچی سے منسلک ہو گئے ہیں۔ پہلے کراچی جانے کے لیے چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا تھا اب سات گھنٹے لگیں گے۔

انھوں نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیم پاکستان کی ضرورت ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے لہذا اس بارے میں حکومت جلد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔

گوادر اور کالا باغ دونوں ایسے منصوبے ہیں جن پر قوم پرست جماعتیں مخالفت کر رہی ہیں۔ گوادر کے حوالے سے خصوصاْ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ مقامی لوگوں کی بے دخلی کا منصوبہ ہے۔ پنجاب اور کراچی سے پچاس لاکھ سے اسی لاکھ لوگوں کو لاکر یہاں آباد کیا جائے گا جبکہ بلوچستان کی کل آبادی ستر لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ گوادر میں مقامی آبادی کو نظر انداز کیا گیا ہے روزگار کے لیے باہر سے لوگوں کو لایا جا رہا ہے۔ مکران ڈویژن کے ماہی گیری کی صنعت تباہ ہو گئی ہے۔ جس جگہ بندرگار تعمیر کی گئی ہے یہ جگہ مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش کا واحد مقام ہے۔

پشتون اور سندھی قوم پرست جماعتیں کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہی ہیں اور اس منصوبے کو پشتونوں اور سندھیوں کی زندگی اور موت کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گوادر اور کالا باغ دونوں منصوبوں میں تین صوبے ایک طرف اور چو تھا صوبہ پنجاب دوسری جانب کھڑے ہیں۔ وفاقی طرز حکومت میں اکائیوں کو اہم فیصلوں میں اہمیت حاصل ہوتی ہے تو ایسے منصوبوں پر متفقہ لائحہ عمل یا چاروں صوبوں کے عوام کے لیے سود مند منصوبے کیوں شروع نہیں کیے جاتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد