مشرف وعدہ خلافی کے عادی: واشنگٹن پوسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے منگل کو صدر مشرف کی وعدہ خلافی کی خبر دینے کے ساتھ بش انتظامیہ اور جنرل مشرف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور جھوٹے وعدے کرنے کو جنرل مشرف کی عادت قرار دیا ہے۔ لیکن ایک کہنہ مشق امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ صدر بش کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ جنرل مشرف وردی پوش ہیں یا بےلباس۔ ان کا کہنا ہے کہ باوجود سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ( امریکی وزارتِ خارجہ) کے چند افسروں کی کسمساہٹوں کے جنرل مشرف کو واشنگٹن میں کوئی مسئلہ در پیش نہیں ہے۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ کچھ امریکی پاکستانیوں کی تنظیمیں بھی جنرل مشرف کا مزہ خراب کرنے اور ان کا نیویارک اور واشنگٹن میں شو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف نے ’جمہوریت اور سماجی اصلاحات کے بارے میں کیے گئے ہر وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس مرتبہ دلچسپ بات ان کی نیت کے اظہار کے وقت کا چناؤ ہے۔ انہوں نے اپنی نیت کا اظہار اس وقت کیا جب وہ نیویارک میں صدر بش سے ملنے جا رہے تھے۔‘ اخبار کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اس لیے کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اخبار نے انتظامیہ کے افسروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ امریکی اہلکار اس وعدہ خلافی کے بعد بھی ان کے جام سے جام ٹکرائیں گے۔ واشنگٹن پوسٹ نے جنرل مشرف پر الزام لگایا ہے کہ وہ دوغلی چال چل رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو پکڑ رہے ہیں اور دوسری طرف وہ طالبان کو پاکستان کی مغربی سرحد سے آپریشن کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے زیر تسلط کشمیر میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کبھی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ تاریخ کا سب سے بڑا نیوکلیئر سمگلنگ کا نیٹ ورک ان کی آنکھوں کے سامنے چلتا رہا جس کے ذریعے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو بم بنانے کا سامان فراہم کیا گیا۔ جب ان کا بھانڈہ پھوٹ گیا تو انہوں نے اس کے سرغنہ کو معافی دے دی اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ جمہوریت کو بحال کرنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے سیکولر پارٹیوں اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی جبکہ یہی روشن خیال اعتدال پسندی کے بہترین اتحادی بن سکتے تھے۔ اس کے برعکس انہوں نے انتہا پسند اسلامی پارٹیوں کی تعمیر کی پوری کوشش کی ہے۔ اخبار نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ دیرپا تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے تین بلین ڈالر کی امداد کے عوض القاعدہ کے خلاف تعاون کی توقع تو کرنی ہی چاہیے لیکن طویل المیعاد پاک امریکہ تعلقات کا لازمی انحصار پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، نیوکلیئر مسئلے پر تعاون اور پاکستان سے ہر قسم کی انتہا پسندی کے خاتمے پر ہونا چاہیے۔ اگر ان نکات کے بارے میں آواز نہ اٹھائی گئی اور اس کے خلاف اٹھنے والے اقدامات کو برداشت کیا گیا تو یہ مسٹر بش کی طرف سے پاکستان کے لیے کسی نئی مصیبت کے بیج بونے کے مترادف ہو گا۔ واشنگٹن پوسٹ کا اداریہ تو ہر کانگریس مین اور سینیٹر کے دفتر میں پڑھا ہی جائے گا۔ اب یہ واضح نہیں ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن میں جنرل مشرف کے خلاف جلسے اور جلوس کرنے والی تنظیموں کی آواز بھی کہیں پہنچے گی یا نہیں؟ پہلے مظاہرے کرنے میں امریکہ کی ایم کیو ایم کافی پیش پیش ہوتی تھی لیکن اب حکومت میں شامل ہونے کے بعد اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ اب جنرل مشرف کی آمد پر پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں (مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی) کے علاوہ بائیں بازو کی پارٹیوں اور گروہوں نے مل کر نیویارک میں کولیشن آف پاکستانیز فار ڈیموکریسی (جمہوریت کے لئے پاکستانیوں کا اتحاد) کے نام سے تنظیم بنائی ہے۔ ان تنظیموں نے جنرل صاحب کے خلاف بہت سی قراردادیں منظور کی ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کارگل کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سر براہی میں ٹریبیونل بنایا جائے، جنرل مشرف اپنے دونوں عہدوں سے مستعفی ہو جائیں، جنرل مشرف آئین میں تبدیلیاں نہ کریں، سیاسی قیدیوں کو رہا کریں اور جلا وطن رہنماؤں کووطن واپس آنے دیں۔ قراردادیں منظور کرنے کے علاوہ ان تنظیموں نے مظاہرے بھی کئے۔ واشنگٹن میں بھی 22 ستمبر کو ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ کی سر کردگی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ مظاہرہ کریں گی۔ یہ مظاہرہ اس ہال کے باہر کیا جائے گا جہاں جنرل مشرف پاک امریکی کمیونٹی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ ایک امریکی سفارت کار کے بقول ان مظاہروں کے ذریعے جنرل مشرف کا شو خراب کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||