مشرف کی وردی، وکلاء کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء نے صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی نہ اتارنے کے فیصلے کے خلاف پیر کو یوم سیاہ منایا۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن سمیت ملک بھر کی ہائی کورٹس اور مقامی بار کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں اور وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ بار کے سیکریٹری صادق چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء کو سپریم کورٹ کے گیٹ پر احتجاجی بینر لگانے سے روک دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد جمیل کی زیر صدارت ایک اجلاس میں وکلاء نے آئین اور جمہوریت کو اصلی شکل میں بحال ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ قاضی جمیل نے کہا کہ وکلاء اس یوم سیاہ کے ذریعے صدر جنرل پرویز مشرف پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دو عہدے رکھنا دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری کے لئے آئین اور قانون کی بالادستی ان کے پیشے کا اہم جزو ہے اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تووکلاء اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نےپارلیمنٹ پرصدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق قانون کو منظور کرنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایک فرد واحد کے لئے قانون بنانا آئین کے خلاف ہے اور اس کی مثال پوری دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔ قاضی جمیل نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر کے عہدے کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے ایک عہدہ چھوڑ دیں۔ انہوں نےسیاستدانوں کے ساتھ مل کر کسی بھی تحریک چلانے کے امکان کو رد کیا اور کہا کہ ان کی برادری کو اس سلسلے میں ماضی میں کچھ تلخ تجربات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وکلاء کا کام سیاست نہیں ہے۔ انہوں نےوفاقی وزیر قانون وصی ظفر پر الزام عائد کیا کہ وہ وکلاء میں پھوٹ ڈالنے کے لئے انفرادی طور پر کچھ وکلاء کو صدر اور وزیراعظم سے ملوانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ یہ یوم سیاہ پاکستان بارکونسل کی اپیل پر منایا گیا۔ بار کونسل کے زیر اہتمام 29 جنوری کو کراچی میں آل پاکستان لائیرز کنونشن بھی منعقد کیا جا رہا ہے جس میں وکلاء کی تحریک کے آئیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||