وکلاء اورعدلیہ کی صلح ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے وکلاء نے ماتحت عدلیہ سے متعلق اپنے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے جس سے عدلیہ اور وکلاء میں ایک ہفتے سے جاری جھگڑا ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری سے ملاقات کے بعد وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں اور اب وہ بدھ کو ہڑتال نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے لاہور میں وکلاء نے لاہور کے سیشن جج خلیل چودھری سے جھگڑے کے بعد بدھ کے روز پنجاب بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مرزا حنیف بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہماری صلح ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ان کی دوپہر چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی تو چیف جسٹس نے فوری طور پر ان سے کہا کہ انھوں نے وکلا کے دونوں مطالبات مان لیے ہیں اور وکلا اس کا باقاعدہ اعلان کرسکتے ہیں۔ وکلا تنظیموں پنجاب بار کونسل اور لاہور بنار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس میں اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ مرزا حنیف بیگ نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ سیشن جج خلیل چودھری کو تبدیل کردیں گے اور جب تک ان کا تبادلہ نہیں ہوتا وہ عدالتی کام نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس نے وکلاءا سے وعدہ کیا کہ ان کے خلاف اس دوران میں جو مقدمات قائم ہوۓ ہیں ان میں ان کے خلاف فوجداری کاروائی نہیں کی جاۓ گی۔تام مقدمات ایک طریق کار کے مطابق واپس لیے جائیں گے۔ مرزا حنیف بیگ نے کہا کہ وکلا نے ایوان عدل سے اپنا احتجاجی کیمپ ختم کردیا ہے اور وہ کل ہڑتال نہیں کریں گے۔ گزشتہ ہفتہ ایک سول جج نے دو ملزم وکلاء کی ضمانت مستقل کرنے سے انکار کیا تو وکلاء نے احتجاج شروع کردیا۔ وکلاء کے سیشن جج سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوۓ تو پولیس نے وکلاء اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر کو گرفتار کرنا چاہا جس پر ایک وکیل کی شلوار اتر گئی تھی جنھیں پولیس اسی حالت میں گھسیٹتی رہی۔ اس پر وکلاء نے ججو ں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان کا پولیس سے تصادم ہوا جس پر دو روز تک لاہور کی ماتحت عدلیہ میں کام نہیں ہوا اور ماتحت عدلیہ کے ججوں نے استعفی دینے کا اعلان کردیا تھا۔ ججوں اور پولیس کی طرف سے وکلا کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت متعدد مقدمے درج کراۓ گۓ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||