| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایل ایف او کے خلاف مظاہرہ
وکلاء کی مختلف تنظیموں نے ایل ایف او کے خلاف احتجاجی لانگ مارچ کے اختتام پر منگل کے روز سپریم کورٹ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کئی دیگر وکلاء تنظیموں کے زیر اہتمام ایل ایف او کے خلاف لانگ مارچ گزشتہ روز لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچا تھا۔ منگل کے روز شرکاء کا جلوس راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹ سے شروع ہوا اوراسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ سے ہوتا ہوا ایوان جمہور پہنچا۔ جلوس میں تقریباً تین درجن کاریں اور دو کوچیں شامل تھیں۔ پولیس کی ایک بھاری جمیعت پہلے سے ہی پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے موجود تھی جس نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کو سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل نہ ہونے دیا۔
جلوس کے شرکاء ایوان جمہور پر جمع ہوگئے جہاں وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی نے ان سے خطاب کیا۔ بعد میں مظاہرے کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ سپریم کورٹ کی انتظامیہ کی طرف سے وکلاء کے نمائندوں کے سپریم کورٹ کے احاطے میں داخلے پر پابندی کے حکم کے پیش نظر عام خدشہ یہ تھا کہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ لیکن منگل کے روز ایسا نہیں ہوا کیونکہ وکلاء نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ تاہم ایک وکیل کا پولیس والوں سے معمولی جھگڑا ہوا جسے بروقت رفع دفع کرا دیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||