BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2003, 10:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل ایف او: وکلاء کا لانگ مارچ
وکلاء کا احتجاج
راولپنڈی روانا ہونے سے پہلے

ایل ایف او کے خلاف وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام لاہور سے راولپنڈی ’لانگ مارچ‘ شروع ہوگیا ہے۔

پیر کی صبح ایک سو وکلاء لاہور سے روانہ ہوئے اور آخری اطلاعات کے مطابق وکلاء کا قافلہ جہلم پہنچ چکا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حامد خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ چاروں صوبوں کی بار کونسلوں اور ہائی کورٹوں کی بار ایسوسی ایشنوں کے نمائندے اس لانگ مارچ میں شریک ہیں۔

حامد خان کے مطابق لاہور سے روانگی کے بعد فیروزوالہ، گوجرانوالہ، وزیرآباد، گجرات، کھاریاں اور جہلم میں لانگ مارچ میں شامل وکلاء کے قافلے کے خیرمقدم کیا گیا اور مقامی ایسوسی ایشنیں جلوس میں شامل ہو گئیں۔

 ایل ایف او کے مسئلے پر وکلاء میں کوئی اختلاف نہیں ہے، صرف چند حکومت کے خریدے ہوئے لوگ اس سلسلے میں کئے جانے والے حکومتی پروپیگنڈے کا حصہ بن رہے ہیں

حامد خان، صدر سپریم کورٹ بار

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ایل ایف او کے مسئلے پر وکلاء میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

’ایل ایف او کے مسئلے پر وکلاء میں کوئی اختلاف نہیں ہے، صرف چند حکومت کے خریدے ہوئے لوگ ہیں جو اس سلسلے میں کئے جانے والے حکومتی پروپیگنڈے کا حصہ بن رہے ہیں، وکلاء کی تمام تنظیمیں اس لانگ مارچ میں شامل ہیں اور ایل ایف او کے معاملے پر ان کے درمیان مکمل اتحاد پایا جاتا ہے۔‘

 وکیل نہ دبنے والے ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے پھیلائے ہوئے لالچ کے کسی جال میں آئیں گے

حامد خان

ایک اور سوال کے جواب میں حامد خان نے کہا کہ حکومت نے لالچ اور دباؤ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر کے وکلاء میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن امید ظاہر کی کہ حکومت اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔

’وکیل نہ دبنے والے ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے پھیلائے ہوئے لالچ کے کسی جال میں آئیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا قافلہ پہلے راولپنڈی جائے گا اور منگل کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن کے دفتر سے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچے گا۔

یہ احتجاجی مارچ اس وقت ہو رہا ہے جب حکومت کے ترجمان نے سختی سے پاکستان کے بارے میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی رپورٹ کی تردید کی ہے۔ حکومت کے مطابق پاکستان میں عدلیہ بالکل آزاد ہے اور پارلیمان بھی ٹھیک طرح سے چل رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد