| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ میں ہنگامہ آرائی
جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں چیف جسٹس افتخار چودھری کے بھتیجے چودھری فواد اور سابق وفاقی وزیر قانون خالد رانجھا کی قیادت میں وکلاء کے ایک گروہ نے چیف جسٹس کے خلاف لگائے گئے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ پھینکا ، احتجاجی بینرز کو آگ لگا دی اور بار کے صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرنے کا دعوی کیا۔ آج صبح ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس کیانی ہال میں منعقد ہوا جس میں ایک وکیل عقیل اسماعیل کے قتل اور مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ اجلاس ختم ہونے پر ساڑھے دس بجے چیف جسٹس افتخار چودھری کے بھتیجے چودھری فواد ایڈوکیٹ اور سابق وزیر قانون خالد رانجھا ، لاء آفیسروں اور ان کے حامی پچیس تیس وکلاء نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا جسے انہوں نے بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس کا اجلاس قرار دیا۔ چیف جسٹس کے بھتیجے وکیل فواد چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں ایک وکیل عبدالواحد چودھری نے بار کے صدر حافظ عبدالرحمان انصاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جس کی تجویز وکیل آفتاب باجوہ نے دی اور وکیل ایس ایم شاد نے اس کی تائید کی۔ اس گروہ کے اجلاس نے بار کے صدر عبدالرحمان انصاری کو ان کے عہدے سے الگ کرنے کا اعلان کیا۔ چیف جسٹس کے حامی گروہ نے بار کے نائب صدر ایم ایم عالم کو بار کا نیا صدر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس کے حامی وکلاء کے گروہ نے وکلاء کے دفاتر گراۓ جانے کے خلاف لگایا گیا بار ایسو سی ایشن کا احتجاجی کیمپ اکھاڑ دیا اور احتجاجی بینرز کو اتار کر آگ لگا دی۔ تاہم کچھ دیر بعد مخالف گروہ نے یہ کیمپ دوبارہ لگا لیا اور نئے بینرز لگا دیے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مزمل اختر کے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے بھتیجے فواد چودھری نے آج غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی انتظامیہ نے پنجاب کے وکلاء کی ہڑتال سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہ معاملے کو سلجھانے کے بجائے اوچھے ہتکنڈے استعمال کررہی ہے۔ بار کے سیکرٹری نے کہا کہ بار اور بینچ میں کوئی تنازعہ نہیں البتہ بار اور بینچ کے چیف کے درمیان تنازعہ ہے اور پچھلے آٹھ ماہ میں چیف جسٹس نے محاذ آرائی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ بار کونسل کی مجلس عاملہ کے چئیرمین کاظم خان نے بی بی سی کو کہا کہ خالد رانجھا نے آج جو کچھ کیا وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے بھتجے کے کہنے سے اور دس لاء آفیسروں کے اکٹھے ہوکر تحریک عدم اعتماد منظور نہیں ہوا کرتی اور بار کے صدر حافظ عبدالرحمان انصاری ہیں۔ کاظم خان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظورکروانے کے قواعد اور طریق کار ہیں جن کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کا پہلے سے نوٹس دیا جاتا ہے اور اس طریح اچانک ہنگامی طور پر عدم اعتماد کی تحریک منظور نہیں ہوا کرتی۔ انہوں نے کہا کہ بار کے سات ہزار ارکان کی دو تہائی اکثریت تحریک عدم اعتماد میں حصہ لے تو تحریک منظور ہوتی ہے جبکہ آج ایسا نہیں کیا گیا۔ آج کے واقعات سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری اور عدالت عالیہ کے بار ایسوسی ایشن کے درمیان لیگل فریم ورک آرڈر اور دیگر معاملات پر اختلافات دونوں کے درمیان محاذ آرائی کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ دو روز پہلے لاہور ہائی کورٹ بار کے مطالبہ پر صوبہ بھر میں وکلاء نے چیف جسٹس کے رویہ کے خلاف عدالتی کام کا بائیکاٹ کیا تھا اور لاہور بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کامطالبہ کیا تھا۔ جمعرات کو ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے بار ایسوسی ایشن کی بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی تین دن بعد ختم کرنے کا نوٹس دیا تھا اور بار کو اپنے بل ادا کرنے کا کہا تھا۔ تاہم آج سابق وزیر قانون خالد رانجھا کے بار کے موجودہ صدر کے خلاف کھل کر آنے کے بعد بار میں حکومت کے حامی اور مخالف گروہوں کی لڑائی تیز ہوگئی ہے اور لاہور ہائی کورٹ بار میں مستقل ہنگامہ آرائی کی راہ کھل گئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جنرل پرویز مشرف کے لیگل فریم ورک آرڈر کے خلاف ملک بھر کے وکلاء کی تحریک میں پیش پیش رہی ہے اور چیف جسٹس افتخار چودھری ایل ایف او کو آئین کا حصہ قرار دے چکے ہیں جو دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||