BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2003, 14:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کا احتجاجی لانگ مارچ

لاہور سے روانہ ہونے سے پہلے
لاہور سے روانہ ہونے سے پہلے

لیگل فریم ورک آرڈر کے خلاف احتجاج کے طور پر ملک بھر کی نمائندہ تنظیموں کی سرکردگی میں لاہور سے وکلاء کا ایک جلوس راولپنڈی کے لئے روانہ ہوا جہاں وہ سپریم کورٹ تک مارچ کریں گے۔

دوسری طرف ، آج سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا ہے کہ وکلاء پر سپریم کورٹ کی عمارت میں چودہ اکتوبر کو جلسہ کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ وکلاء تنظیموں نے اس پابندی کو توڑنے کا اعلان کیا ہے۔

آج صبح پونے دس بجے کے قریب وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ، جن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حامد خان، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان انصاری اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایل ایف او کے خلاف استعفی دینے والے جج طارق محمود شامل تھے ، اور ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء کے نمائندے بیس گاڑیوں کے ایک قافلہ کی شکل میں لاہور ہائی کورٹ کی عمارت سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئے۔

وکلاء کا جلوس جی ٹی روڈ سے گزرتا ہوا شام کو راولپنڈی پہنچے گا اور راستے میں مختلف ضلعی بار ایسوسی ایشنوں نے اس کے استقبال کیا جن میں فیروز والہ، گوجرانوالہ، گجرات ، کھاریاں، سوہاوہ او گوجر خان کی بار ایسوسی ایشنیں شامل تھیں۔

منگل کی صبح دس بجے اس جلوس کے ارکان راولپنڈی بار سے اسلام اباد تک مارچ کریں گے اور وہاں سے سپریم کورٹ کی طرف احتجاجی مارچ کریں گے جہاں پر انہوں نے ایک ملک گیر کنوینشن کا اعلان کیا ہوا ہے۔

تاہم آج سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایک پریس نوٹ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پہلے ہی یہ اعلان کیا جاچکا ہے کہ سپریم کورٹ کی عمارت میں ایسے کنویشن منعقد نہیں کیے جا سکتے اور چودہ اکتوبر کو سپریم کورٹ کی عمارت میں وکلاء کا داخلہ محدود کرنے کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ صرف اجازت نامہ رکھنے والے افراد ہی عمارت میں داخل ہوسکیں گے۔ اس لئے جن وکلا اور اشخاص کے مقدمات کی تاریخ منگل کے لیے مقرر ہے وہ یہ اجازت نامے حاصل کرلیں۔

سپریم کورٹ کے اعلان کے مطابق چودہ اکتوبر کو اس کے ملازمین بھی اپنے شناختی کارڈ دکھا کر عمارت کے اندر جا سکیں گے اور یہ بھی اعلان کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی عمارت میں روزانہ ساڑھے تین بجے کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے علاوہ کسی کو داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی اور اس بارے میں متعلقہ سیکیورٹی کے اداروں کو ضرورت کے مطابق اقدام کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ہے۔

وکلاء کے مارچ میں شامل پنجاب بار کونسل کے سابق چیئرمین رمضان چودھری نے بی بی سی سے کہا کہ وکلاء سپریم کورٹ کی پابندی کی خلاف ورزی کرکے ہر صورت میں سپریم کورٹ کی عمارت تک جانے کی کوشش کریں گے اور اگر وہاں نہ پہنچ سکے تو سڑک پر اپنا کنوینشن کریں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد