| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء پھر احتجاجی مہم پر
پاکستان میں وکلاء برادری نے متنازعہ ایل ایف او کے بعد اب آئین میں سترہویں ترمیم کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے سوموار کے روز پشاور سے اسلام آباد تک گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں مارچ کیا۔ اس موقع پر قانونی ماہرین نے ملک میں ’مکمل جمہوریت‘ کے قیام تک یہ احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے وکلاء تنظیموں کے عہدیدار پشاور ہائی کورٹ میں جمع ہوئے اور بعد میں گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں وفاقی دارالحکومت روانہ ہوئے جہاں شام انہیں ایک کنوینشن میں شرکت کرنا تھی۔ راستے میں شرکاء نے نوشہرہ اور دیگر مقامات پر رک کر مقامی وکلا برادری سے خطاب بھی کیا۔ یہ وکلاء کی آئین کی بالادستی کے حق میں جاری تحریک کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اس سے قبل وکلاء نے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا۔ اس موقع پر وکلاء کی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین قاضی محمد انور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ان کے اس احتجاج کا کوئی اثر ہو رہا ہے کہا کہ وہ عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ ضمیر جھنجھوڑنے کا کام جاری رکھیں گے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس طارق محمود نے کہا کہ ملک میں اب بھی مکمل جمہوریت نہیں۔ ’صرف پرویز مشرف ہی تمام فیصلے کر رہے ہیں، نہ تو جمالی صاحب سے مشورہ کرتے ہیں اور نہ وفاقی کابینہ سے۔ ہاں شاید اپنے کور کمانڈروں کو وہ اعتماد میں لیتے ہوں تو یہ تو جمہوریت نہیں۔ ہم اس مارچ کے ذریعے عوام کو بھی درست صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔‘ اس احتجاج میں شرکت کے لئے وکلاء تنظیموں کے نمائندے تمام ملک سے اتوار کے روز ہی پشاور پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ اس احتجاج کے بعد وکلاء کی ایکشن کمیٹی نے بارہ فروری کو لاہور ہائی کورٹ میں وکلاء کے نمائندوں کا ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||