’عدلیہ غاصبوں کا راستہ روک سکتی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کہا ہے کہ عدلیہ ملک میں مطلق العنانی کا راستہ روکنے میں بڑی رکاوٹ ہوسکتی تھی لیکن اس نے بھی لعنت زدہ نظریہ ضرورت میں پناہ لی اور ہر غاصب کے عمل کو سند جواز مہیا کی۔ سنیچر کو لاہو رمیں پاکستان لائیرز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام لاہور ہائی کورٹ میں کراچی ہال میں ’ایماندار، آزاد اور فعال عدلیہ اور جمہوری ادارے‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں جسٹس صدیقی نے عدلیہ کے کردار پر بے لاگ گفتگو کی۔ سعید الزمان صدیقی نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عبوری آئینی حکم نامہ یا پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا جس کی وجہ سے انہیں ان کے عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ عدلیہ کو بھی غیرجمہوری حکومتوں کے قیام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی سویلین معاملات میں مداخلت بہت زیادہ ہے اور اس نے عملی طو پر ہر سویلین شعبے کو قبضے میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم محمد علی جناح کے واضح اعلانات کے باوجود پاکستان میں ایک سے زیادہ مرتبہ سویلین حکمرانی کو چھیڑا گیا اور آئین کو ختم یا معطل کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان حالات میں کیسے دعوٰی کیا جا سکتا ہے کہ آج کا پاکستان باباۓ قوم کی بصیرت کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیاقت علی خان کے بعد آنے والے حکمرانوں میں ایک قومی رہنما کے قد کاٹھ اور سیاسی بصیرت کی کمی تھی جس سے غیرجمہوری قوتیں جو انتظار میں تھیں ان کو جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چھپن سال کے واقعات سیاسی نظام کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ برداشت اور راۓ کے اختلاف کا احترام جیسے دو بنیادی عناصر کی غیر موجودگی سے سیاسی نظام سازشوں کا شکار ہوا اور غیر جمہوری قوتوں نے سیاسی حکومتیں الٹیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے بارےمیں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آئین کے محافظ ہیں اور اس کا تحفظ کریں گے لیکن انھوں نے ہر ایسے موقع پر آئین کے تحت اپنے حلف کو چھوڑ دیا اور اس میں آسانی محسوس کی کہ غاصب کے نافذ کیے ہوئے قانون کے مطابق کام کریں۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی نے سیاسی قیادت کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ سیاسی رہنما غیرجمہوری قوتوں کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے اور انہوں نے ان سے مل کر کام کرنے کے آسان راستے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے پارلیمینٹ سے ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) کی منظوری کے بارے میں کہا کہ ایل ایف او کو پارلیمنٹ سے جو تقدس مل گیا ہے اس نے ملک کی حکمرانی میں فوج کےمستقل کردار کا راستہ کھول دیا ہے جو کہ انیس سو تہتر کے آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہے اور اس سے فوج جیسے غیر جانبدار اور سب سے زیادہ منظم ادارے کے سیاسی ہوجانے کا خدشہ پیدا کردیا ہے جو کہ صحت مند بات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں ہونے والے ماوراۓ آئین اقدام نے سیاسی قیادت کا مزید پول کھول دیا کہ وہ مجبوراً اداروں کے تحفظ کے لیے ایسی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام ہوگئیں جس سے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس باعث عام آدمی کا اس بات پر اعتماد نہیں رہا کہ عدلیہ آئین کی خلاف ورزی سے مؤثر طریقہ سے نپٹنے کی اہل ہے اور حکومت وقت کی آئین کی خلاف ورزی کو روک سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی انیس سو ستتر اور اکتوبر انیس سو ننانوے کے فوجی ادوار میں اعلی عدلیہ کے ججوں کی برطرفی کے اقدامات سے ججوں کے تحفظ کے لیے انیس سو تہتر کے آئین میں موجود شقوں کو غیر موثر بنادیا گیا جبکہ اس سے عدلیہ کی آزاد ی کا تصور بھی ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وکلاء برادری جج کے منصب پر فائز ہونا اعزاز سمجھتی تھی لیکن اب عدلیہ میں جج بننا وکلاء برادری کے قابل اور ایماندار لوگوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے جس سے لائق، ایماندار اور دیانت دار وکلا کو جج کے عہدے پر فائز کرنا ایک دشوار کام بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے وکلا براداری گزشتہ چار برسوں سے جو جدوجہد جاری رکھے ہوۓ ہے وہ وکلا کی طرف سے قومی اداروں کے تحفظ کے لیے ایک قابل قدر خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرانوں کا مقابلہ کرنے اور عدالتی نطام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اعلی عدلیہ میں قطعی میرٹ پر اور شفاف طریقہ سے تقرریاں کی جائیں اور ججوں کے احتساب کے لیے آئین کی متعلقہ دفعات کو موثر بنایا جاۓ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اکائیوں میں رہنے والے لوگوں کو قومی امور میں شمولیت احساس ہو اور یہ اس وقت ممکن ہے جب انیس سو تہتر کےمتفقہ آئین کے تحت ہی حکمرانی کی جاۓ۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ اگر انیس سو تہتر کے آئین میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہے تو ملک کے عوام سے نیا مینڈیٹ لیا جائے اور آئین سے کترا کر نہ گزرا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں فوج کےکردار کے تعین کے لیے پاکستان کا ترکی سےموازنہ کی کوئی تاریخی اور اخلاقی بنیاد نہیں ہے کیونکہ ترکی میں فوج کے عملی کردار سے انقلاب آیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ترکی کے برعکس پاکستان کا قیام طویل اور مسلسل جمہوری سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں فوج کا کوئی کردار نہیں بلکہ اس وقت فوج نو آبادیاتی نظام کاحصہ تھی اور اسے جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||