مشرف ہارڈ ٹاک میں: مکمل متن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بی بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک پاکستان‘ میں دہشتگردی، کشمیر، فوجی وردی اتارنے اور دیگر موضوعات سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دیئے جن کا اقتباس ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال: مبینہ دہشت گردی کے خلاف چلائی جانے والی جنگ میں آپ امریکی صدر جارج بش کے اہم اتحادی ہیں تو اس جنگ میں آپ دراصل کس حد تک آگے جا سکتے ہیں خاص طور پر القاعدہ کے خلاف؟ جواب: پاکستان سے القاعدہ کے مؤثر خاتمے تک ۔ سوال: آخری شدت پسند تک؟ جواب: جی بالکل اور یہ جنگ ہماری سرحدوں سے آگے نہیں بڑھے گی۔ سوال: جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کتنی کامیاب رہی؟ جواب: یہ کارروائی مکمل طور پر تو کامیاب نہیں رہی لیکن میرے خیال میں کافی حد تک کامیاب رہی۔ ہم وہاں القاعدہ کے تمام ارکان کو تو نہیں پکڑ سکے لیکن ہم نے وہاں موجود ان کے ٹھکانےاور ان کی پناہ گاہ کو پورے سازو سامان کے ساتھ ختم کردیا۔
جب وہ اس جگہ کو چھوڑ کر اپنے ساتھ جو سامان لیجا سکتے تھے وہ لیکر وہاں سے فرار ہوئے تو یقیناّ وہ پہلے کے مقابلے بہت کمزور ہو گئے۔ جو کچھ بھی وہ پیچھے چھوڑ گئے وہ ہمارے قبضے میں ہے۔ ان کے مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ اس لئے میرے خیال میں ہم نے ان کو کافی کمزور کر دیا ہے۔ سوال: لیکن آپ کے کئی ناقدین یہ دلیل دیتے ہیں کہ وانا کا آپریشن دراصل بالکل کامیاب نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں چھیالیس سپاہی ہلاک ہوئے، کئی معصوم شہریوں کی جانیں گئیں اور اس کی وجہ سے سینکڑوں بلکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے اور یہ ساری تباہی و بربادی صرف ترانوے پاکستانی قبائیلیوں اور تریسٹھ غیر ملکی شدت پسندوں کی گرفتاری کے لئے؟ جواب: یہ ایک فوجی کارروائی کو غیر فوجی انداز میں دیکھنے کا رویہ ہے۔ وہ صرف اعداد و شمار کا موازنہ کر رہے ہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے، کتنے زخمی ہوئے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم نے ان کے ٹھکانوں کو بالکل تباہ کر دیا۔ ہم نے اس پناہ گاہ پر قبضہ کر لیا جہاں انہیں نہ معلوم کتنے سالوں سے پناہ مل رہی تھی۔ شدت پسند وہاں خاصے مضبوط تھے لیکن اب وہ پہاڑوں میں فرار ہو گئے ہیں۔ سوال: شدت پسند فرار ہو گئے ہیں۔ ایک مرحلے پر یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور انہیں گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی شدت پسند سرنگوں کے ذریعے فرار ہو گئے؟ جواب: جی بالکل یہ بات ان لوگوں نے کہی ہے جو علاقے کے بارے میں نہیں جانتے سوال: لیکن کیا اس سے آپ کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچا؟ جواب: مہرین میں یہ نہیں جانتا۔ آپ زیادہ بہتر جانتی ہونگی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مثال کے طور پر کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی ہیں۔ اب یہ بھی ویسا ہی علاقہ ہے۔ کیا وہ مجاہدین کو پکڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ علاقے کو جانتے ہیں۔ وہاں چاروں طرف پہاڑیاں ہیں اور ایک دریائی وادی ہے۔ پہاڑیوں میں جانے کے کئی راستے ہیں اور دن رات علاقے کے ہر حصے کی نگرانی کرنا ممکن نہیں ہے۔ سوال: لیکن خود آپ کا یہ بیان تھا کہ یہ کارروائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا؟
جواب: ہاں بلا شبہ ایسی اطلاعات تھیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھا۔ سوال: تو بنیادی طور پر آپ نے ایک غلط خفیہ اطلاع پر کارروائی کی ہے؟ جواب: نہیں یہ تصدیق شدہ اطلاع تھی۔ وہاں ایک انتہائی اہم ہدف ہے کیونکہ وہاں شدید مزاحمت تھی۔ سوال: یہ انتہائی اہم ہدف کون تھا؟ جواب: میں نہیں کہہ سکتا۔ اس میں بہت سے لوگوں کے نام لئے جا رہے ہیں۔ لوگوں نے یہ بھی قیاس کرنا شروع کردیا کہ یہ الظواہری ہیں لیکن یہ میں نے نہیں کہا۔ سوال: تو اگر وہاں کوئی انتہائی اہم ہدف تھا تو وہ فرار ہو گیا؟ جواب: جی اگر تھا تو وہ فرار ہو گیا۔ جی ہاں۔ سوال: تو بنیادی طور پر اس کارروائی میں القاعدہ یا طالبان کے کسی اہم رکن کو پکڑنے میں ناکامی ہوئی؟ جواب: اس حد تک اگر آپ اسے ناکام کہیں تو ہاں یہ ناکام رہا۔ القاعدہ کی قیادت اور انتہائی اہم ہدف کو پکڑنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ لیکن جیسا میں نے کہا کہ اس کارروائی کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں کے تناظر میں دیکھنا پڑے گا۔ سوال: آپ کو کیا لگتا ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہو سکتے ہیں؟ جواب: اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ آپ کا اندازہ بھی اتنا ہی صحیح یا غلط ہو سکتا ہے جتنا میرا۔ سوال: اور ان کے نائب الظواہری کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب: میں اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ علیحدہ ہیں یا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ہوں، ہو سکتا ہے۔ سوال: دراصل اس سے اس کارروائی کی ساکھ متاثر ہوئی ہےاور جس طرح سے اس سے نمٹا گیا ہے اس سے آپ کے امریکی حامی بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوئے۔ میرا اشارہ کابل میں امریکی سفارتکار کے بیان کی طرف ہے جنہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’ ہم نے پاکستانی قیادت سے کہا ہے کہ یا تو وہ اس مسئلے کو حل کریں یا پھر ہم اس کو حل کریں گے‘۔ کیا یہ دھمکی نہیں ہے؟ سوال: انہوں نے جو کچھ بھی کہا، میں نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ جب وہ یہاں آئے تھے تو ایسے شبہات تھے کہ وہ پاکستان کے حامی نہیں ہیں اور اس طرح کے بیانات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اور میں یہ کہنا چاھوں گا کہ اگر وہ امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں توانہیں ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ امریکہ کی قیادت یہ نہیں کہہ رہی تو پھر سفارتکار ایسی بات کیوں کر رہا ہے جو امریکی وزارتِ خارجہ کے موقف سے بالکل میل نہیں کھاتی۔انہیں بیان دینے سے پہلے وزارتِ خارجہ سے مشورہ کرنا چاہیے۔ سوال: ماضی میں بھی پال ولفووٹز نے کچھ ایسا بیان دیا تھا جس کا مطلب تھا کہ پاکستانی فوج القاعدہ کے پیچھے تو جا رہی ہے لیکن اتنی شدت سے طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی؟ جواب: اب یہ تصور درست نہیں ہے۔ کاش امریکی سفیر یہ تمام سوالات جنرل ابی زید سے بھی پوچھیں جو کہ یہ سارا کام کر رہے ہیں۔ کیا ان کا بھی یہی خیال ہے کہ ہم طالبان کا پیچھا نہیں کررہے، ایسا نہیں ہے یہ صرف ذرائع ابلاغ ہی میں آ رہا ہے۔ ہم یقیناً القاعدہ کا پیچھا کر رہے ہیں اور ہم طالبان کا پیچھابھی کر رہے ہیں۔ میں بس اتنا ہی کہتا رہا ہوں کہ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کون ہیں اور کیا ہیں۔ سوال: آپ امریکہ کے سرکاری موقف کے بارے میں کیا کہیں گے۔ آپ کا اس سے کیا مطلب ہے؟ جواب: کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ وہ ہمارا ہمیشہ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت وانا آپریشن کے بارے میں جو ناامیدی ہے، آپ جو کچھ کہہ رہی ہیں، وہ وانا آپریشن سے پوری طرح مطمئن ہیں اور انہوں نے مجھے اس آپریشن کی کامیابی اور اس کے نتائج پرمبارک باد بھی دی ہے۔ سوال: یہ ایک مشکل سوال ہے۔ ایک طرف تو کچھ امریکی حلقوں سے یہ بیانات دیے جارہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے اندر کچھ حلقے اس آپریشن کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ آپ کس حد تک جانا چاہتے ہیں اگر ملکی سطح پر آپ کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی ہے؟ جواب: نہیں میری مقبولیت میں اس وجہ سے کمی واقع نہیں ہو رہی، جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں، انہیں زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ اب کون لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ دینی جماعتیں ہیں، سیاسی مذہبی جماعتیں، دوسرے نمبر پر جنوبی وزیرستان کے چند قبائل۔ باقی تمام پاکستان میری حمایت میں ہے۔ اور چھ کی چھ قبائلی ایجنسیاں اور تمام قبائلی عمائدین اور ملِک جو جرگہ میں شریک ہوئے تھے اور جرگہ جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں جرگہ کیا ہوتا ہے۔ جرگہ تمام قبائلی عمائدین اور سرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ سب گورنر ہاوس گئے تھے اور یہ جرگہ بعد میں جنوبی وزیرستان گیا تھا اور وہ سب حمایت کر رہے ہیں تو آپ کیا بات کر رہی ہیں۔ سوال: لیکن آپ کا یہ سارا جوش و خروش کچھ لوگوں کے خیال میں درست نہیں ہے۔ وہ حقیقت کی نشاندہی کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے عالمی سطح اور پاکستان کی حد تک کیا حاصل کیا۔ دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس بنا پر اسپین میں ایک حکومت عوامی رد عمل کی بنا پر ختم ہو چکی ہے۔ انتہا پسندوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ناقص پالیسی ہے۔ جواب: آپ کے خیال میں شدت پسندوں کو فائدہ ہورہا ہے، لیکن میں یہ نہیں سمجھتا اور میں اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ انتہاپسندوں کو فائدہ نہیں ہورہا۔ یہاں پر انتہا پسند ہیں، یہاں پر دہشت گرد ہیں اور یہاں پر عسکریت پسند ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ انہیں فائدہ ہورہا ہے۔ میں ہرگز ایسا نہیں سمجھتا۔ سوال: تو آپ سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ بش کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی واقعی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ جواب: میں یہ نہیں کہہ رہا۔ میں صرف پاکستان کی بات کر رہا ہوں میں عراق کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ سوال: تو کیا صدر بش کی پالیسی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ جواب: وہ القاعدہ کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہورہا ہے اور فلسطین اسرائیل مسئلہ پر میں بات نہیں کر رہا ہوں۔ سوال: عراق کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جواب: میں اس بارے میں بھی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف پاکستان کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ سوال: لیکن اگر میں آپ سے اس بارے میں تبصرہ کرنے کو کہوں تو آپ کیا کہیں گے؟ جواب: ہاں کچھ مشکلات ہیں۔ اور یہ بہت سنگین مشکلات ہیں۔ سوال: کیا آپ نہیں سمجھتے آپ بھی اس میں پھنستے جارہے ہیں؟ صدر بش کے اتحادی کے طور پر آپ ان مسائل میں الجھتے نہیں جارہے؟ جواب: نہیں، جب ہم امریکی اتحادی فوج کا حصہ ہوں۔ جب ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کا حصہ ہیں جو کچھ فلسطین اور عراق اور افغانستان میں ہورہا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہم القاعدہ کی حد تک ان کے ساتھ ہیں وہ بھی جب اس کی پاکستان کی حدود کے اندر تشریح کی جائے۔ سوال: تو آپ کی حمایت صرف القاعدہ کی حد تک محدود ہے؟ جواب: ہاں بالکل۔ سوال: چلیں اب بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کریں۔ بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ان انتخابات کا کوئی بھی نتیجہ نکلے اور کوئی بھی دوسری حکومت بنائے اس کا دونوں ملکوں میں امن مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ جواب: میں ایسا ہی سمجھتا ہوں اور میں اس کی امید کرتا ہوں کیونکہ زمینی حقائق سب پر عیاں ہیں۔ عوامی رائے بھی یہی ہے ، ذرائع ابلاغ کی رائے اور تاجر اور کاروباری برادری اور صنعت کار جن سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا ہے سب کی رائے یہی ہے اور اب ماحول بالکل بدل گیا ہے۔ سب اس سے آگاہ ہیں۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں لیکن حقائق وہی رہیں گے۔ سوال: لیکن آپ اس سلسلے میں کچھ مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور آپ نے کہا ہے کہ اگر اس میں کوئی تعطل ہوتا ہے تو آپ اس کاحصہ نہیں رہیں گے۔ آپ نے یہ کہا تھا تو آپ کے ذہن میں کشمیر کے بارے میں کیا نظام الاوقات ہے۔ جواب: نہیں میں نے کسی نظام الاوقات کی بات نہیں کی۔ میں بالکل مضطرب نہیں ہوں، بنیادی طور پر میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں نے کہا تھا کہ وزرائے خارجہ جولائی یا اگست میں ملنے والے ہیں اور خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر دوبارہ مئی یا جون میں بات ہونے والی ہے۔ اب ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں یہ کہتا رہا ہوں کہ اب دو سطحوں پر پیش رفت ہورہی ہے۔ ایک طرف اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ان دونوں پر بیک وقت پیش رفت ہونی چاہیے ان دونوں میں ایک نسبت ہے۔ سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری آئی ہے؟ جواب: نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان میں گرمجوشی قائم ہے اور یہ ایسے ہی ہیں، جیسے پہلے تھے۔ سوال: آپ کے بیان پر ردعمل ہوا تھا۔ اس کو ایک ’ڈیڈ لائن‘ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس پر اڈوانی اور سنہا کی طرف سے بھی ردعمل آیا تھا۔ اور اسکے بعد سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات بھی مؤخر کر دیے گئے۔ یہ سرد مہری نہیں؟ جواب: نہیں یہ سرد مہری نہیں ہے۔ بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ بہت عرصہ بعد پورا ماحول ہی بدل چکا ہے۔ اب اگر آپ کہیں کہ ایک دم دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی تو کچھ مسائل پیش آئیں گے لیکن یہ معمول کی بات ہے۔ یہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی عجیب بات نہیں۔ آپ نے بس کی بات کی مجھے یقین ہے بات چیت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اس میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں اور جس پر دونوں اطراف متفق ہیں۔ اور دونوں طرف سے اس پر مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ اور خواہش ہے کہ پیش رفت ہو۔ سوال: کشمیر پر بھی؟ جواب: مجھے امید ہے۔ میں نے یہ واضح کر دیا تھا۔ میرا مطلب ہے میں بڑی بےتکلفی سے عرض کروں گا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے میرے وہ بیان جس میں میں نے مسئلہ کشمیر پر زور دیا تھا یا یہ کہا تھا کہ تمام معاملات بشمول کشمیر پر مذاکرات کا عمل آگے بڑھنا چاہیے اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر پر پیشرفت ہونا چاہیے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ یہ سخت نکتہ نظر ہے یا یہ کہ میں ایک معمولی بات کا مسئلہ بنا رہا ہوں تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے میں کوئی سفارت کار نہیں اس لئے میں بغیر کسی لگی لپٹی کے بغیر ایسا کہتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ حقیقت یہی ہے۔ سوال: لیکن آپ کے خیال میں مستقبل قریب میں اس پر پیش رفت کیسے ممکن ہے؟ جواب: جب وزرائے خارجہ کی ملاقات ہو تو انہیں کشمیر پر بات کرنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ پیش رفت کیسے ممکن ہے۔ مسئلے کے کیا حل ہو سکتے ہیں؟ انہیں کسی واضح حل پر گفتگو کرنی چاہیے۔ سوال: آپ کے ذہن میں کوئی حل ہے؟ جواب: میرے پاس بہت سے حل ہیں۔ میرے پاس بہت سے حل ہیں۔ سوال: وہ آپ کے لئے قابلِ قبول ہوں گے؟ جواب: میرے ذہن میں کوئی ایک حل نہیں ہے جو ہم اختیار کر سکیں کیونکہ میرے خیال میں ہمیں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال: آئیے اب ایک اور معاملےکی طرف چلتے ہیں جس پر بہت بحث ہو رہی ہے۔ آپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ آپ اس سال کے آخر تک وردی اتار دیں گے اور پاکستان آرمی کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑ دیں گے۔لیکن آپ کے بہت سے حمایتی یہ تجویز کر رہے ہیں کہ آپ وردی نہ اتاریں۔ کیا آپ ان سے اتفاق کرتے ہیں؟ جواب: یہ ایک بہت متنازعہ مسئلہ ہے۔ ہاں مجھے بہت سے لوگوں نے بلکہ تقریباً تمام لوگوں نے یہی کہا ہے۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا۔ ہمیں انتظار کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے۔ سوال: تو کیا کوئی ایسے حالات ہو سکتے ہیں جس میں آپ اس سال کے آخر تک شاید وردی نہ اتاریں؟ جواب: بھئی میں اس پر تبصرہ کرنا با لکل پسند نہیں کروں گا۔ لیکن میں ایم ایم اے سے ہونے والے سمجھوتے کے بعد ان کے رویے سےمطمئن نہیں ہوں۔ وہ ہمارے ساتھ میرے اعتماد کے ووٹ اور قومی سلامتی کونسل کے معاملات پر تعاون نہیں کر رہے جس کا انہوں نے ہمارے ساتھ وعدہ کیاتھا۔ وہ وعدہ خلافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سوال: اور چونکہ یہ اس معاہدے کا حصہ تھا جس میں آپ نے وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسلئے آپ اسے اپنا وعدہ پورے نہ کرنے کی جائز وجہ تصور کرتے جواب: نہیں، میں اس پر تبصرہ کرنا پسند نہیں کروں گا۔ سوال: لیکن یہ ممکن تو ہے؟ جواب: ایک بار پھر، کوئی تبصرہ نہیں۔ سوال: کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دیں؟ جواب: نہیں، میں یہ کرنا پسند نہیں کروں گا۔ میں اپنی ذات کے لئے ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے معلوم ہے کہ اخبارات میں کچھ ایسے مضامین چھپ رہے ہیں اور کچھ لوگ اس کے بارے میں بات بھی کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں میری کوئی انا نہیں اور میں ایسا شخص نہیں جو اپنے بارے میں ایسی بلند و بانگ رائے رکھے۔ سوال: تو اگر آپ اپنے وعدے کے مطابق وردی اتار دیتے ہیں تو اس صورت میں کیا آپ فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے؟ آپ کا عہدہ کیا ہو گا اور تمام معامالات کیسے طے ہوں گے؟ جواب: یقیناً اگر میں وردی اتار دیتا ہوں تو میں ایک سویلین ہوں گا اور کوئی عہدہ اپنے پاس نہیں رکھوں گا۔ سوال: کیا آپ نے اس بارے میں سوچا ہے کہ آپ کسے نیا آرمی چیف نامزد کریں گے؟ جواب: بھئی، یقیناً مستقبل کے بارے میں سوچنا تو پڑتا ہے۔ سوال: اور اگر سب کچھ معاہدے کے مطابق ہو جاتا ہے تو آپ کے خیال میں آپ کس مہینے میں یہ نامزدگی کریں گے۔ سوال: میرے خیال میں اکتوبر کے مہینے میں موجودہ آرمی چیف، وائس چیف آف آرمی سٹاف اور چئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کی معیاد مکمل ہو رہی ہے۔ سو میں عام طور پر یہ نہیں چاہوں گا کہ ان اوقات کو تبدیل کیا جائے۔ سوال: تو اسکا مطلب ہے یہ نامزدگی اکتوبر یا نومبر کے دوران ہو سکتی ہے؟ جواب: ایک دفعہ پھر، میں کوئی بھی وعدہ کرنا پسند نہیں کروں گا۔مجھے اس فیصلے کے لئے بہت سی چیزوں کو مدِنظر رکھنا ہو گا۔ سوال: اندازاًّ یہی نظام الاوقات ہوگا؟ جواب: اندازاًّ، ہاں۔ سوال: لوگوں کے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی طاقت کا سرچشمہ فوج ہے اور وردی اتار دینے کی صورت میں آپ سیاسی طور پر تو بے دست و پا ہو جائیں گے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ جواب: میں کہوں گا کہ میں اس سے پوری طرح متفق نہیں ہوں۔ پاکستان کے مخصوص حالات میں یقیناً وردی کی وجہ سے طاقت اور اختیار حاصل ہوتا ہے لیکن اس سے ہٹ کر ایک آرمی چیف کے پاس کوئی خاص اختیار نہیں ۔۔۔ صرف یہ ہے کہ وہ فوج اور قوم کی کمان کرتا ہے۔ پاکستان میں فوج کو واحد منظم اور سب سے طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے سربراہ کے پاس کوئی تحریری اختیار یا طاقت نہیں ہے۔ سوال: تو آپ اس سال کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے؟ جواب: میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہا۔اور جہاں تک میرے اختیار کے بارے میں آپ کے پچھلے سوال کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ میں اپنی وردی سے ہٹ کر عوام میں بھی ایک خاص حد تک مقبول ہوں۔ سوال: لیکن اس بات کا امکان ہے اس سال کے بعد بھی آپ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار رہیں گے؟ جواب: میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے اس سے پہلے بہت سے معاملات پر غورو فکر کرنا ہوگا۔ سوال: لوگوں کا خیال ہے کہ آپ بہت جدت پسند ہیں اور آپ کا جھکاؤ سیکولر سیاست کی طرف ہے۔ ایم ایم اے آپ کی شدیدمخالف ہے، اے آر ڈی آپ کی پالیسیز کی سخت ناقد ہے۔ آپ کے خیال میں اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے مستقبل میں آپکو مشکلات نہیں ہونگی؟ جواب: وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بہانہ بنا کر وہ کسی بھی مسئلہ میں مجھے پھنسا لیں۔ اور انہیں بہت اچھا بہانہ مل گیا ہے کہ یہ شخص سیکولر ہے کیونکہ امریکہ اس کی مدد کررہا ہے، کیونکہ صدر بش اور مغرب میری تعریف کر رہے ہیں۔ میں کسی بھی دوسرے پاکستانی کی طرح ایک مسلمان ہوں، چاہے اچھا ہوں یا برا۔ میں یہ کہتا رہتا ہوں کہ کسی دوسرے کو یہ حق نہیں کہ اپنے آپ کو مجھ سے بہتر مسلمان سمجھے۔ میرے خیال میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ خود کو مجھ سے بہتر مسلمان سمجھے۔ میں کہتا رہتا ہوں کہ یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ میرا مذہبی جماعتوں سے اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ اس عظیم مذہب کو داغدار کر رہی ہیں۔ ان کا فہمِ اسلام کمزور ہے۔ انہوں نے اس ملک کے مسلمانوں کے لئے مصائب پیدا کئے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اسلام بلوچستان، پنجاب، سندھ اور سرحد میں اتحاد و اتفاق کا باعث ہو گا لیکن عملی طور پر مذہب ان کو تقسیم کرنے کا باعث بناہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||