افسران کی ترقیاں،صدر کی مداخلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف گریڈ اٹھارہ اور بیس کے افسران کی ترقیوں میں قواعد اور ضوابط کو پس پست ڈال کر صوابدیدی اختیار استعمال کرتے رہے ہیں۔ متعلقہ وزیرنے بدھ کے روز تسلیم کیا ہے موجودہ حکومت نے گریڈ اٹھارہ سے بیس تک، کے افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے سے متعلق مجاز بورڈ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے ذاتی اختیارات استعمال کرتی رہی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران حزب مخالف کے رکن رانا محمود الحسن کے سوال کے جواب میں تحریری طور پر ایوان میں پیش کردہ معلومات میں متعلقہ وزیر نے بتایا ہے کہ گیارہ افسران کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور ’چیف ایگزیکیٹو‘ مجاز بورڈ کی سفارشات کے برعکس احکامات جاری کیے۔ جبکہ سولہ افسران کے متعلق سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی اور موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز نے صرف ایک افسر کے متعلق بورڈ کی سفارشات مسترد کرتے ہوئے ان کے برعکس منظوری دی۔ ایوان میں پیش کی گئی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ سول بیوروکریسی کے افسران کی ترقی کے لیے وزیراعظم کی منظوری سے ایک بورڈ قائم ہوتا ہے جو قواعد کے مطابق مختلف پہلوؤں پر غور کے بعد کسی افسر کی ترقی یا انہیں ترقی نہ دینے کی سفارشات کرتا ہے۔ وزیر کے مطابق متعلقہ مجاز بورڈ نے سن دوہزار ایک سے لے کر اب تک پندرہ افسران کی ترقی کے لیے سفارشات کیں جو صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی اور موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز نے مسترد کردیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ترقی دینے کے بجائے انہیں ’سپرسیڈ، کرتے ہوئے ان کے جونیئر افسران کو ترقی دے دی۔ حکومت کے مطابق اس مدت کے دوران متعلقہ بورڈ نے تیرہ افسران کو ترقی نہ دینے اور انہیں ’سپر سیڈ‘ کرنے کی سفارشات کیں لیکن صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی اور وزیراعظم شوکت عزیز نے بورڈ کی سفارشات مسترد کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ترقیاں دینے کے احکامات جاری کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||