بری فوج ترقیاں، تبادلےاور تقرریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بری فوج کے کئی سینئر افسران کی ترقیوں، تبادلوں اور تقرریوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ میجر جنرل کے عہدے کے سات افسران کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دی گئی ہے جبکہ پانچ نئے کور کمانڈر اور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس جسے آئی ایس آئی بھی کہا جاتا ہے، کا نیا سربراہ کی تقرری بھی کی گیی ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب فوجی ترجمان کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کور کمانڈر کوئٹہ شاھد حمید کو نیشنل ڈیفینس کالج کا نیا کمانڈنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ جہاں سے طارق وسیم غازی کو سپر سیڈ ہونے کی وجہ سے قبل از وقت ریٹائر ہونا پڑا۔ میجر جنرل حامد رب نواز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کوئٹہ کا کور کمانڈر بنایا گیا ہے۔ میجر جنرل اطہر علی کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کراچی کا نیا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جہاں سے لیفٹیننٹ جنرل احسن سلیم حیات کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نائب آرمی چیف تعینات کیا گیا ہے۔ وہ سات اکتوبر کو اس عہدے سے ریٹائر ہونے والے جنرل محمد یوسف کی جگہ لیں گے۔ راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیا نی کو خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ میجر جنرل صلاح الدین ستی کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر راولپنڈی کا نیا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا ہے جو سات اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے جنرل محمد عزیز کی جگہ لے رہے ہیں۔ میجر جنرل کے عہدے سے ترقی پاکر لیفٹیننٹ جنرل بننے والے امتیاز حسین کو ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمینٹ، افضل مظفر کو کور کمانڈر گجرانوالہ اور وسیم احمد اشرف کو ایڈجوٹنٹ جنرل لگایاگیا ہے۔
احسن سلیم حیات نے جن تین سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کو سپر سیڈ کیا ان میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ اور گجرانوالہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن بھی شامل ہیں جو رواں ماہ کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ جبکہ تیسرے افسر صدر جنرل پرویز مشرف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید ہیں جو اگلے سال سترہ اپریل کو ریٹائر ہونے والے تھے۔ حامد جاوید کی مدت ملازمت میں رواں سال اپریل میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔ احسن سلیم حیات پر چند ماہ قبل کراچی میں نامعلوم شدت پسندوں نے ناکام مگر خطرناک جان لیوا حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ ان کی تقرری سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ فوج شدت پسندوں کے خلاف بھرپور طور پر کارروائی جاری رکھے گی۔ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق کو بھی ان سے سینیئر تین لیفٹیننٹ جنرل کو سپرسیڈ کرتے ہوئے فور سٹار جرنیل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ جو تین جرنیل ان سے سینئر تھے انہیں معمول کے مطابق آئندہ سال ریٹائر ہونا تھا۔ ان کے نام اور ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخیں اس طرح ہیں۔ نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل طارق وسیم غازی یکم فروری، کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل محمد اکرم سولہ اپریل جبکہ کور کمانڈر بہاولپور سید پرویز شاہد تیس اپریل سن دوہزار پانچ کو رٹائر ہونے تھے لیکن اب انہیں فوری طور پر عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||