BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 October, 2004, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج: دو افسران کی تقرری کا مطلب؟

پاکستانی فوج
ویسے تو کسی بھی ملک کی فوج میں تقرریاں معمولی بات ہوتی ہیں لیکن پاکستان جیسا ملک، جس کا سربراہ فوجی ہو اور فوج ملک کے سیاسی، سفارتی،خارجی و داخلی معاملات میں پوری طرح ملوث ہو وہاں اہم فوجی عہدوں پر تقرریوں کو خاصی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان فوج کے دو افسران کی تقرری کی ہے لیکن اس سے جہاں چھ جرنیلوں کو قبل از وقت رٹائر ہونا پڑےگا وہاں درجنوں افسران کی تقرریوں اور ترقیوں کا دروازہ بھی کھل گیاہے۔

حکام کے مطابق آئندہ کچھ دنوں میں کئی فوجی افسران کی مزید تقرریاں اور ترقیاں ہونی ہیں۔

صدر کے اس فیصلے پر تجزیہ نگار مختلف تبصرے اور تجزیے پیش کر رہے ہیں۔
بیشتر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں سے جہاں فوج پر جنرل پرویز مشرف کی گرفت مکمل ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے وہاں یہ اشارہ بھی مل رہا ہے کہ شاید وہ فوجی وردی اتارنا نہیں چاہتے۔

بعض مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپ کے دورے سے واپسی کے فوری بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ غیر متوقع فیصلے آخر کیوں کیے؟

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل احسن سلیم حیات کو فور سٹار جرنیل بناکر نائب آرمی چیف مقرر کرنے سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ شاید اکتیس دسمبر کے بعد بھی آرمی چیف کا عہدہ جنرل پرویز مشرف اپنے پاس ہی رکھیں گے۔

یاد رہے کہ سترھویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت گزشتہ سال دسمبر میں قوم سے خطاب کے وقت صدر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر دو ہزار چار تک فوجی عہدہ چھوڑ دیں گے۔

احسن سلیم حیات کو ان سے تین سینیئر لیفٹیننٹ جرنیلوں کو’سپرسیڈ‘ کرتے ہوئے فور سٹار جرنیل بناکر نائب آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سات اکتوبر کو اس عہدے سے ریٹائر ہونے والے جنرل یوسف کی جگہ لیں گے۔

جو تین جرنیل احسن سلیم حیات سے سینیئر ہیں اور سپر سیڈ ہوئے ہیں ان میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ اور گجرانوالہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن بھی شامل ہیں جو رواں ماہ کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے۔

جبکہ تیسرے افسر صدر جنرل پرویز مشرف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید ہیں جو اگلے سال سترہ اپریل کو ریٹائر ہونے والے تھے۔ حامد جاوید کی مدت ملازمت میں رواں سال اپریل میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔

احسن سلیم حیات پر چند ماہ قبل کراچی میں نامعلوم شدت پسندوں نے ناکام مگر خطرناک جان لیوا حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ ان کی تقرری سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ فوج شدت پسندوں کے خلاف بھرپور طور پر کارروائی جاری رکھے گی۔

خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اس عہدے سے جنرل محمد عزیز خان سات اکتوبر کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق کو بھی ان سے سینیئر تین لیفٹیننٹ جنرل کو سپرسیڈ کرتے ہوئے فور سٹار جرنیل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ جو تین جرنیل ان سے سینئر تھے انہیں معمول کے مطابق آئندہ سال ریٹائر ہونا تھا۔ ان کے نام اور ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخیں اس طرح ہیں۔

نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل طارق وسیم غازی یکم فروری، کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل محمد اکرم سولہ اپریل جبکہ کور کمانڈر بہاولپور سید پرویز شاہد تیس اپریل سن دوہزار پانچ کو رٹائر ہونے تھے لیکن اب انہیں فوری طور پر عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں سے اس بحث کو اور تقویت ملے گی کہ صدر مشرف کو بھی اس سال کے آخر تک فوج کے سربراہ کے عہدے کو چھوڑ دینا چاہیئے۔

عسکری ذرائع کے مطابق آدھ درجن کے لگ بھگ میجر جنرل کے نام لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے لیے زیرغور ہیں۔

مبصرین کے مطابق کم سے کم چار نئے کور کمانڈرز کی تقرریاں بھی رواں ماہ میں ہونی ہیں جس سے فوج میں بڑے پیمانے پر تقرریوں،تبادلوں اور ترقیوں کا ایک اور عمل مکمل ہوگا۔

کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ نفسیاتی طور پر فوج میں اپنی مکمل گرفت کا تاثر دینے کے لیے جب سے صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا ہے تقریباً ہر سال بڑے پیمانے پر فوجی افسران کی ترقیوں اور تبادلوں کا فیصلہ کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد