شازیہ: قومی اسمبلی میں احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں منگل کو حزب اختلاف کے ارکان نے ڈاکٹر شازیہ پر جنسی تشدد میں مبینہ طور پر ملوث فوجی اہلکار کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ حزب مخالف نے بدھ کی شام گئے شروع ہونے والے اجلاس میں صدر جنرل پرویز مشرف، حکومت اور فوج پر بدعنوانی کی پردہ پوشی کرنے، آئین کی خلاف ورزی کرنے اور پلاٹوں کے چکر میں پڑنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کی۔ حزب اختلاف کی خاتون رکن تھمینہ دولتانہ نے نکتہ اعتراض پر سوئی کے علاقے میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کا معاملہ اٹھایا اور فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پوری فوج ایک کیپٹن جو کہ ملزم ہے، اسے بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے علامتی واک آؤٹ کا اعلان کیا، جس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے حصہ لیا۔ حزب اختلاف کے رکن سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر صدر جنرل پرویز مشرف اور حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آئین کے مطابق ہر نئے پارلیمان کے سال کے آغاز کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے قبل دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے صدر مملکت پابند ہیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ حزب اختلاف کے ایک اور رکن لیاقت بلوچ نے بھی ان کی حمایت کی اور کہا کہ صدر مشرف نے وعدے کے مطابق وردی نہیں اتاری اس لیے اب وہ صدر ہی نہیں رہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ ایوان بالا سینیٹ کا پارلیمانی سال بارہ مارچ کو پورا ہوگا اور اس کے بعد مشترکہ اجلاس سے خطاب کے متعلق آئینی شق کا اطلاق ہوگا۔ جبکہ وزیر قانون وصی ظفر نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی حمایت سے سترویں آئینی ترمیم منظور ہوئی اور اس کی بدولت صدر جنرل پرویز مشرف آئینی صدر بنے ہیں۔ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے رکن وزیر قانون کی بات پر خوش دکھائی دیے لیکن ان کے رکن اعتزاز احسن جو مشہور وکیل بھی ہیں، انہوں نے ڈاکٹر شیرافگن کا دلیل مسترد کرتے ہوئے آئین کی متعلقہ شقیں پڑھ کر وزیر کے موقف کو غلط قرار دیا۔ ایک موقع پر مسلم لیگ نواز کے رکن خواجہ آصف نے اسلام آباد میں ’ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، کے قیام کے متعلق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے ایک دن قبل ایسا کرنا ایوان کی توہین ہے۔ انہوں نے فوج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کل تک سیاستدانوں پر الزام لگاتے تھے کہ وہ پلاٹ بانٹتے ہیں لیکن اب جرنیل پلاٹوں کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ ان کے مطابق چند جرنیل پوری فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج بیکریوں اور مچھلی کے کاروبار سے لے کر ہر کاروبار میں ملوث ہوچکی ہے جو اس ادارے کے حق میں نہیں۔ وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ حکومت ’ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، کے متعلق آرڈیننس ایوان میں قانون سازی کے لیے پیش کرے گی اور حزب مخالف اس پر بات کریں۔ ایک موقع پر حزب اختلاف کے ایک رہنما مخدوم امین فہیم نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم نے بدعنوانی کے الزام کے تحت اپنی کابینہ کے رکن امتیاز شیخ کو برطرف کیا اور متعلقہ وزیر نے وزیراعلیٰ پر بدعنوانی کے الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے بدعنوانی کے تحت برطرف کیے گئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ احتساب پر مامور ادارہ ’نیب، کہاں ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ کیا’نیب، صرف سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہیں تو متعلقہ ادارہ بدعنوانی کی پردہ پوشی کے بجائے متعلقہ وزیر اعلیٰ اور وزیر کے خلاف کارروائی کرے۔ قومی اسمبلی کا ایوان ہو یا سینٹ، جب بھی اجلاس ہوتا ہے، حکومتی اتحاد اور حزب مخالف کے اتحاد اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کرتے ہیں اور حکمت عملی بناتے ہیں۔ بدھ کے روز حزب مخالف کی جماعتوں اور اتحادوں نے اپنے اجلاس منعقد کیے لیکن حکومتی اتحاد نے کوئی ایسا اجلاس نہیں بلایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||