BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 June, 2004, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر پر مذاکرات کے تانے بانے

کشمیر
مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کی کوششوں کے لئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز بیالیس سال قبل ہوا تھا
دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کی کوششوں کے لئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز بیالیس سال قبل ہوا تھا- اس وقت میں دلی میں بطور صحافی تعینات تھا اور کئی واقعات کا چشم دید بھی تھا۔

یہ بات نومبر سن باسٹھ کی ہے۔ اس وقت ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی جنگ زوروں پر تھی اور ہندوستان کے شمال مشرق میں آسام کے پہاڑوں میں ہندوستانی فوج کے پاؤں اکھڑ رہے تھے۔ اس کی کمک کے لئے نہایت عجلت میں مختلف ریاستوں سے پولس کے جوان محاذ پر بھیجے جا رہے تھے۔ پنجاب کی پولیس کے جوان بھی جنگ میں جھونک دیے گئے تھے اور پنجاب اپنی پولیس سے یکسر خالی ہوتا جا رہا تھا۔ یہ صورت حال ہندوستان کے لئے بڑی گھمبیر تھی۔

میں اس زمانہ میں دلی میں تعینات تھا۔ انہی دنوں ایک مرتبہ رات گئے دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر آغا ہلالی کا ٹیلی فون آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور ابھی اس کا کسی کو کانوں کان پتہ نہیں، جتنی جلد ہو سکے گل رعنا آجاؤ۔ گل رعنا پاکستان کے مقتول وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کوٹھی تھی جو دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ میں وہاں سے زیادہ دور نہیں رہتا تھا، فوراَ پہنچ گیا۔

وہاں میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈنکن سینڈیز اور صدر کینیڈی کے مشیر خاص ایورل ہیری مین آغا ہلالی سے محو گفتگو تھے۔ آغا ہلالی ان سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے؟ بولے یہ دونوں حضرات صدر کینیڈی کی ہدایت پر آج شام ہی لندن سے آئے ہیں اور یہ ابھی ابھی تین مورتی میں ہندوستان کے وزیر اعظم نہرو سے مل کر آئے ہیں اور صبح سویرے صدر ایوب سے ملنے راولپنڈی جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ مقصد اس مشن کا کیا ہے؟ انہوں نے ایک طرف لے جا کر نہایت رازدارانہ انداز سے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ کو سخت خطرہ ہے کہ کہیں ہندوستان اور چین کی اس جنگ میں پاکستان چین کا ساتھ دینے کے لئے جنگ میں نہ کود پڑے اور ہندوستان پر فوجی دباؤ ڈالنے کے لئے کہیں ایک طرف کشمیر میں فوج کشی نہ کر بیٹھے اور دوسری طرف پنجاب، میں جو فوج اور پولیس سے خالی ہو گیا ہے ، داخل نہ ہو جائے۔

انہی خطرات کے پیش نظر دلی میں امریکہ کے سفیر گیلبرتھ کی سفارش پر صدر کینیڈی نے برطانوی حکومت سے ہنگامی صلاح مشورہ کے لئے ایورل ہیر مین کو لندن بھیجا تھا جہاں سے وہ وزیر خارجہ ڈنکن سینڈیز کو ساتھ لے کر دلی آئے ہیں۔ انہوں نے ان خطرات کے بارے میں جواہر لال نہرو سے ہنگامی بات کی ہے جو کافی پس و پیش کے بعد پاکستان کو چین کی مدد سے باز رکھنے کے لئے فوری طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے وعدے پر راضی ہو گئے ہیں۔ میں نے آغا ہلالی سے پوچھا کہ کیا صدر ایوب اس وعدے پر راضی ہو جائیں گے اور بات مان جائیں گے؟

آغا ہلالی کا کہنا تھا کہ ان دونوں حضرات کو مجھ سے کہیں زیادہ امید ہےاور یقین ہے کہ ایوب خان ان کی بات مان جائیں گے۔ دوسرے روز یہ بات صحیح ثابت ہوئی کہ ایورل ہیری مین اور ڈنکن سینڈیز کا اندازہ درست تھا۔ صدر ایوب خان نے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے لئے ہندوستان کی پیشکش قبول کر لی اور پاکستان نے اگر حقیقی معنوں میں ہندوستان اور چین کی جنگ میں مداخلت کرنے کا ارادہ تھا تواس سے ہاتھ کھینچ لئے۔

حالات نے بھی کیسا پلٹا کھایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ صرف تین سال قبل صدر ایوب نے یکم ستمبر سن انسٹھ کو ڈھاکہ جاتے ہوئے دلی کے پالم کے ہوائی اڈے پر جواہر لال نہرو سے ملاقات کی تھی جس میں ہندوستان کی سرحد پر چین سے بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر صدر ایوب نے سخت تشویش ظاہر کی تھی اور اسے بر صغیر کے لئے نہایت سنگین قرار دیا تھا۔

اسی پس منظر میں صدر ایوب نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو مشترکہ دفاع کی تجویز پیش کی تھی- اس کے جواب میں جواہر لال نہرو نے نہایت طنزیہ انداز سے پاکستان کی سمت آسمان کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا مشترکہ دفاع کس کے خلاف؟

اس ملاقات کے تین سال بعد نہرو نہ صرف چین کے خلاف لڑ رہے تھے بلکہ امریکہ اور برطانیہ سے فوجی مدد طلب کررہے تھے اور پڑوسی پاکستان سے یہ وعدہ حاصل کرنے کے جتن کر رہے تھے کہ وہ جنگ میں چین کا ساتھ نہ دے۔ دوسری طرف پاکستان جو تین برس پہلے چین کے خلاف ہندوستان کو مشترکہ دفاع کی پیش کش کر رہا تھا وہ چین کے اتنے قریب آگیا تھا کہ ہندوستان کو اس سے خطرہ لاحق تھا کہ وہ کہیں چین کا ساتھ نہ دے۔

بہرحال جواہر لال نہرو نے کشمیر پر مذاکرات شروع کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق ستائیس دسمبر سن باسٹھ کو راولپنڈی میں دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور سردار سورن سنگھ کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ سن اڑتالیس میں کشمیر میں جنگ ، اقوام متحدہ کی مداخلت کے نتیجہ میں جنگ بندی اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے استصواب رائے کے بارے میں قرار داد کی منظوری کے بعد پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان رو برو بات چیت تھی۔ حالانکہ اس دوران دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے درمیان کئی بار ملاقات ہو چکی تھی لیکن کشمیر کے مسئلے پر بات چیت پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جن ہنگامی حالات میں اور جس دباؤ اور عجلت میں یہ مذاکرات شروع ہوئے اس کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب بہت سے لوگوں کو ان مذاکرات کی بارآوری کے بارے میں شکوک و شبہات تھے۔

پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ہندوستان نے چین کے ساتھ جنگ کے دباؤ میں بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ اس کے خلاف ایک اور محاذ نہ کھل جائے اور اس کی مشکلات نہ بڑھ جائیں ان لوگوں کو خدشہ تھا کہ ہندوستان مذاکرات میں سنجیدہ نہیں وہ محض وقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف ہندوستان میں بہت سے مبصرین کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ جنگ میں ہزیمت کے بعد نہرو سیاسی طور پر اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ وہ اب کشمیر کے بارے میں اپنا موقف بدلنے اور پاکستان کو کوئی بڑی مراعت دینے کے قابل نہیں۔ چین نے فوجی کامیابیاں اور یکطرفہ جنگ بندی کرنے کے بعد ہندوستان کو خبر دار کیا تھا کہ وہ متنازعہ سرحد کا رخ نہ کرے۔

ایسی ہتک آمیز شکست کی وجہ سے نہرو کو اپنے قریبی ساتھی اور وزیر دفاع کرشنا مینن کی سیاسی بھینٹ دینی پڑی جس کے بعد جواہر لال نہرو بڑی حد تک اپنی کابینہ میں تن تنہا رہ گئے تھے اور کانگریس پارٹی میں پہلی بار ان کے خلاف آواز بلند ہونی شروع ہوگئی تھی۔ ایسی صورت میں کسی کو کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے جواہر لال نہرو کی طرف سے کسی ریڈیکل اقدام کی توقع نہیں تھی۔

بہر حال مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لئے بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو ستائیس دسمبر سن باسٹھ سے لے کر سولہ مئی سن تریسٹھ تک جاری رہا۔ ان مذاکرات کے چھ دور ہوئے، راولپنڈی، دلی، کراچی، کلکتہ کراچی اور دلی میں جو یکسر ناکام رہے ۔

ان مذاکرات میں امریکہ اس بات کا سخت متمنی تھا کہ جنگ بندی لائن کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم اور سرینگر کی وادی کو یا تو آزاد یا مشترکہ نگرانی کے تحت خود مختار علاقہ قرار کی تجویز کی بنیاد پر یہ مسئلہ حل کیا جائے- لیکن ہندوستان اور پاکستان دونوں نے بڑی بد دلی سے اس تجویز پر بات کی اور اسے قبول نہیں کیا-

اس وقت دلی میں میں نے بہت سے لوگوں کو نہایت ترشی اور ناراضگی سے یہ کہتے سنا کہ برطانیہ اگر کشمیر کو تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اس نے سن سیتالیس ہی میں کیوں نہیں تقسیم کردیا جب کہ اسے پورا اختیار حاصل تھا۔ امریکہ کے بارے میں ایک عام خیال یہ تھا کہ وہ چین کے گرد فوجی گھیرے کے لئے کشمیر اور خاص طور پر لداخ کو بے حد اہم سمجھتا ہے اور اسی بناء پر اس کی اچانک اس مسئلہ سے گہری دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔

بہر حال ایک بنیادی رکاوٹ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پر دونوں ملکوں کے یکسر مختلف موقف کے علاوہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے طریقہ کار پر اختلافات کی بھی تھی- ہندوستان کا اصرار تھا کہ اس مسئلہ کا تصفیہ تلاش کرنے سے پہلے دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہو اور دوستانہ ماحول پیدا ہو۔ اس کے برعکس پاکستان کا موقف تھا کہ چونکہ کشمیر دونوں ملکوں میں بنیادی مسئلہ ہے اس لئے پہلے اس کو سلجھایا جائے اور اس کے بعد دونوں ملکوں میں حالات معمول پر آجائیں گے اور دوسرے معاملات با آسانی طے ہو جائیں گے اور یوں دوستی کی دائمی فضا پیدا ہو سکے گی۔

بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ انہی دنوں پاکستان اور چین کے درمیان قراقرم کی سرحد کے بارے میں سمجھوتہ طے پایاجس پر ہندوستان نے سخت برہمی کا اظہار کیا کیونکہ اس کے مطابق یہ سرحد کشمیر کے علاقہ میں آتی ہے اور پاکستان کو اس بارے میں سمجھوتہ کا کوئی حق نہیں-

بھٹو اور سورن سنگھ کے درمیان طویل مذاکرات کی ناکامی نے ایسے حالات پیدا کئے کہ اس مسئلہ کے بزور قوت طے کرنے کے لئے آخر کار سن پینسٹھ میں دونوں ملک میدان جنگ میں کود پڑے- اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور پھر سویت رہنماوں کی مصالحت سے تاشقند میں ایوب خان اور لال بہادر شاستری کے درمیان بات چیت ہوئی جس کے نتیجہ میں تاشقند سمجھوتہ طے پایا-
یہ سمجھوتہ کئی اعتبار سے سنگ میل تھا- سب سے پہلے تو یہ بر صغیر میں سویت یونین کے سیاسی اور فوجی عمل دخل کی ابتداء تھی پھر جہاں تک کشمیر کے تنازعہ کا تعلق ہے تاشقند سمجھوتہ اس لحاظ سے بے حد اہم سمجھوتہ مانا جاتا ہے کہ پہلی بار کشمیر میں جنگ بندی لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا اور پھر شملہ سمجھوتہ میں اسے لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا یوں جنگ بندی لائین کے نام سے اس کی جو عارضی حیثیت تھی اسے ختم کر کے ایک نیم مستقل حیثیت دی گئئ۔

اسی کے ساتھ پہلی بار شملہ سمجھوتہ میں یہ طے کیا گیا کہ یہ مسئلہ بین الاقوامی اداروں میں لے جانے کے بجائے دونوں ملک باہمی مذاکرات سے حل کریں گے- یوں یہ تنازعہ اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار سے نکل گیا اور صریحًا ہندوستان اور پاکستان کا باہمی مسئلہ بن گیا۔

چنانچہ اسی بنیاد پر پہلے سن ننانوے میں لاہور میں اٹل بہاری واجپئی اور میاں نواز شریف کے درمیان مذاکرات ہوئے جو کرگل کے معرکہ کا شکار ہوگئے پھر سن دوہزار ایک میں آگرہ میں جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپئی کے درمیان بات چیت ہوئی جو کامیابی کے دہانہ پر پہنچ کر ناکام رہ گئی-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد