فوج ہٹانے کافیصلہ ابھی نہیں: بھارت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات مسلح افواج کو پوری طرح واپس بلانے پر بھارت اور پاکستان نے آپس میں بات چیت کی تھی لیکن فریقین نے اس سلسلے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث ومباحثے کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیردفاع پرنب مکھرجی نے کہا کہ سیاچن کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوئی تھی لیکن سرحد سے پوری طرح سے فوج کو واپس بلانے پر دونوں جانب سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ مسٹر مکھرجی نے کہا کہ جموں کشمیر میں سیکیورٹی سے متعلق تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد فوج میں کمی کی گئی تھی تاکہ دہشت گردی سے لڑ رہے حفاظتی دستوں کو آرام مل سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسا کرتے وقت اس بات کا پورا خیال رکھا تھا کہ فوج میں کمی کی صورت حال کا انتہا پسند استحصال نہ کر سکیں اور حالات پر مستقل نظر رکھی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مکھرجی نے کہا کہ جولائی دوہزار چار اور جنوری دوہزار پانچ کے درمیان جموں کشمیر میں پانچ سو سینتیس انتہا پسند اور ایک سو انسٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ چند روز قبل ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ کشمیر میں دراندازی میں ساٹھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے بدلتی صورت حال پر اطمنان کا اظہار کیا تھا۔ ’دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ سیریز جاری ہے جس کے تئیں عوام میں زبردست جوش و خروش ہے۔ دوسری طرف مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کی بحالی کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ ایسے میں دونوں ملکوں کی عوام میں خیرسگالی کے زبردست جذ بات بھی ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں بدلتے رشتوں سے ایسی فضا قائم ہو کہ سرحد پر تعینات دونوں ملکوں کے فوجی بھی اپنے گھر واپس ہوں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||