دلی سے ملتان عوامی مارچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیان عوامی سطح پر رشتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک پیدل امن مارچ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پیار و محبت کے لیے دونوں ملکوں کے لوگ اس میں حصہ لیں گے۔یہ کارواں گاؤں اور قصبوں کی چوپالوں تک پہنچ کر دوستی و بھائی چارے کا پیغام پھیلائے گا۔ سرکاری سطح پر بھلے ہی اتنی کوششیں نہ ہوں لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے لیےعوامی سطح پر نت نئی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسی کوشش کے تحت دونوں ملکوں کی شہریوں پر مشتمل ایک بڑا کارواں دلی سے ملتان تک کا پیدل سفر طے کرے گا۔اور وہی راستہ اختیار کیا گیاہے جو تیرہویں صدی میں صوفی حضرت نظام الدین نے اپنایا تھا۔ بھارت میں اس پیدل مارچ کاانتظام میگسیسے انعام یافتہ و معروف سماجی کارکن سندیپ پانڈے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کے درمیان مزید قربت بڑھے گی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''پیدل مارچ کا مقصد دونوں کے درمیان اعتماد کو مزید بحال کرنا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ امن کی بنیاد باہمی بھروسے پر ہو اور عام آدمی بھائی چارئے اور اندرونی امن کے احساسات سے معمور ہو۔
مسٹر پانڈے کا کہنا تھا کہ پیدل سفر کا مقصد دونوں ملکوں کو یہ بتانا ہے کہ دونوں ویزا سہولیات کو مزید آسان بنائیں۔ دلی میں اس پیدل مارچ کا اعلان کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار مہیش بھٹ نے ہند پاک رشتوں کا خصوصی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ ہم سبھی ایک متحد اور پرامن جنوبی ایشیا کا خواب دیکھ رہے ہیں اور یہ پیدل مارچ اس سمت کاپہلا قدم ہے۔ عوام امن چاہتے ہیں اور پیدل مارچ انہیں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچائے گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں مسٹر بھٹ نے یہ لائن گاتے ہوئے ’یہ راستے ہیں پیارکے چلنا سنبھل سنبھل کے‘ کہا کہ دوستی اور پیار بڑے حساس معاملے ہیں۔ انہیں نبھانے کے لیے فکر وتدبر کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس امن مارچ کا اہتمام وہاں کے مشہور سماجی کارکن اور لاہور ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انسنٹی ٹیوٹ کے ڈائیریکٹرکرامت علی کر رہے ہیں۔ مسٹر کرامت نے اس کارواں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پیدل قافلہ گاؤں قصبوں اور شہروں سے ہوتا ہوا گزرئے گا۔ انہوں نے کہا ’ہر روز قافلہ پندرہ سے بیس کلومیٹر چلے گا۔ رات کو گاؤں یا قصبے میں رکےگا اور شام کووہاں کے باشندوں سے تبادلہ خیال کرے گا ۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق رات کو پروگرام ہوگا اور زیادہ توجہ لوگوں سے ملنے جلنے پر دی جائے گی۔‘ مسٹر کرامت کا کہنا تھا کہ دونوں کی مشترکہ ثقافت ہے اور وہ پر امید ہیں کہ اس سے بھائی چارے و دوستی کی فضا بحال ہوگی۔ اس ماہ کی تیئس تاریخ کو دلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے مزار سے پیدل قافلہ روانہ ہوگا۔ سونی پت، پانی پت اور جالندھر ہوتا ہوا اٹھارہ اپریل کو یہ قافلہ واہگہ بارڈر پار کرے گا۔ گاؤں گاؤں محبت کا پیغام پھیلاتا ہوا یہ قافلہ گیارہ مئی کو ملتان میں صوفی بہاؤالدین ذکریا کی درگاہ پر ختم ہوگا۔ تیروہویں صدی میں اسی راستے سے نظام الدین اولیاء صوفی بہاورالدین ذکریا سے ملنے ملتان گئے تھے۔ اس میں شرکت کے لیے ہندوستان اور پاکستان کی تقریبا ڈیڑھ سو شخصیات نے اپنا نام درج کروایا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں سے اس کے لیے بڑی تعداد میں ویزا جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||