بھارت میں دفاعی بجٹ میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں سن 2005 – 2006 کے وفاقی بجٹ میں دیہی ترقی ، بے روز گاری کے خاتمے اور ٹیکس کے نظام میں ذبردست اصلاحات کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں مختص کی جانے والی رقم میں بھی اضافے کا ذکر ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس ، کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاعی اخراجات کے ضمن میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لئے 83 ہزار کروڑ مخصوص کئے گئے ہيں۔ لیکن اضافی رقم تنخواہوں پر ہی صرف ہوگی اور دفاعی سازو سامان کے لئے تقریبا اتنی ہی رقم مخصوص کی گئی ہے جتنی موجودہ مالی سال میں تھی۔ انکم ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے ٹیکس میں چھوٹ کی حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی۔ اب ٹیکس کی تین کیٹیگریز ہونگی۔ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے پر دس فی صد ٹیکس اور ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ کی آمدنی پر 20 فی صد اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ آمدنی پر 30 فی صد انکم ٹیکس دینا ہوگا۔ دس لاکھ روپے سے زیادہ انکم والوں کو دس فی صد سر چارج بھی ادا کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نےمشینری اور دیگر سازو سامان کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کاا علان کیا اور ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل پر 50 پیسے فی لیٹر کا ٹیکس لگایا ہے۔ بینکوں سے دس ہزار روپے نقد نکالنے پر بھی 0.1 فی صد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے جس کی حزب اختلاف نے شدید مخالفت کی ہے۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لئے مجموعی طور پر 514,344 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مالیاتی خسارے کا اندازہ 4.3 فی صد لگایا گیا ہے۔ اس بجٹ میں دیہی ترقی کا ایک بڑا منصوبہ ’بھارت نرمان‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس کے تحت دیہی علاقوں میں سڑک، اسکول، پینے کا پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات چار برس کے اندر پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ حزب اختلاف نے بجٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں معشیت کو آگے بڑھانے کے لئے کوئی جراءت مندانہ قدم نہیں اٹھاۓ گئے ہیں۔ سابق وزير اعظم اٹل بہاری واجپیئی نے کہا کہ بجٹ سے مہنگائی اور بڑھے گی اور تنخواہ یافتہ لوگوں پر ٹیکس کا بار مزید بڑھ جائے گا۔ دوسری جانب ملک کے صنت کاروں اور صنفتی گھرانوں نے بجٹ کی تجاویز کا عام طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ بیشتر صنعت کاروں نے بنیادی ڈھانچے ، اور دیہی ترقی کے اقدامات پر خوشی ظاہر کی ہے۔ 2005- 2006 بجٹ کی جھلکیاں: بجٹ کا مجموعی تخمینہ 514344 کروڑ رپے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||