BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 February, 2005, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین ریاستوں کے انتخابات مکمل

بہار
پولنگ کے آخری مرحلے میں ووٹوں کی شرح تقریبًا پچپن فیصد رہی ہے
بہار اور جھارکھنڈ میں آخری مرحلے کی پولنگ کےاختتام کے ساتھ ہی تین ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز کی پولنگ میں بہار کی 93 اور جھارکھنڈ میں 28 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔اس مرحلے میں ووٹوں کی شرح تقریبًا پچپن فیصد رہی ہے۔ ووٹوں کی گنتی اس ماہ کی ستائیس تاریخ کی صبح شروع ہوگی۔

اکا دکا تشدد کے واقعات میں کچھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تین افراد مارے گئے ہیں لیکن ایجنسی کی خبروں کے مطابق پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بہار اور جھارکھنڈ میں تین مرحلوں میں انتخابات کرائے گئے ہیں جبکہ ریاست ہریانہ میں ایک ہی مرحلے میں مکمل ہوگئے تھے۔

بہار اسمبلی میں کل دوسو تینتالیس سیٹیں ہیں۔ یہاں لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتادل اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے محاذ کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی بھی کانگریس کے ساتھ مل کر اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہے۔

زیادہ تر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے شاید اس بار بہار اسمبلی میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت نہیں مل سکے گی۔

ادھر جھارکھنڈ اسمبلی میں کل اکیاسی سیٹیں ہیں۔ یہاں کانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے مل کر انتخاب لڑا ہے۔ کانگریس کے اس اتحاد کے مقابلے یہاں بھی این ڈی محاذ میدان میں ہے اور یہاں بھی دونوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ہے ۔دوسری طرف ہریانہ کے متعلق اکثر پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں کہ وہاں کانگریس نو برس بعد دوبارہ اقتدار میں واپس آجائے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہریانہ اور بہار کے انتخابی نتائج بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ بہار میں لالو پرساد یادو کی جماعت گزشتہ پندرہ برس سے اقتدار میں ہے اور اگر لالو پرساد کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم اگر ان انتخابات میں این ڈی محاذ کو کسی قدرکامیابی ملتی ہے تو مرکزی حکومت کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہوگا۔ مرکزی حکومت میں شامل کئی سیاسی جماعتیں جھار کھنڈ اور بہار کے انتخابات میں متحد نہیں تھیں۔ ظاہر اس کا فائدہ بی جے پی والے محاذ کو ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو کانگریس کو اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد