BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 January, 2005, 16:07 GMT 21:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار انتخابات اور نکسلی تحریک

نکسالی تحریک کے ارکان(فائل فوٹو)
نکسالی تحریک کے ارکان(فائل فوٹو)
بھارتی ریاست بہار ملک کی پسماندہ ترین ریاستوں میں سے ایک ہے اور کم از کم ایک تہائی اضلاع نکسلی تحریک کی زد میں ہیں ۔ یہاں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں اور دلتوں کے درمیان ایک عرصے سے ٹکراؤ چلا آ رہا ہے ۔

موجودہ انتخابی عمل کے دوران جھارکھنڈ اور بہار میں کم از کم دس افراد مارے جاچکے ہیں اور ابھی مزید تشدد کا اندیشہ ہے۔

ریاست کے گیا ، جہان آباد ، اورنگ آباد ، پٹنہ ، کیمور ، روہتاس ، نوادا اور چمارن جیسے اضلاع نکسلی تحریک کی زد میں ہیں ۔

ان علاقوں میں دولت آباد انتہائی غربت کا شکار ہے اور یہاں لوگوں کو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے جبر و ظلم کا بھی سامنا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب ان بے زمین مزدوروں میں سیاسی شعور پیدا ہوا تو واجب مزدوری اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے لگے۔ یہی مطالبہ گزشتہ کئی برسوں سے ٹکراؤ کا سبب بناہوا ہے۔

جب حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی تو ان دلتوں اور پسماندہ برادریوں کی ایک بڑی تعداد تحریک کی طرف راغب ہوئی ۔ اب یہ نکسلی تحریک بہار کے انتخابی عمل کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔

نکسلی تحریک کے حامی کملیش شرما جہان آباد سے سی پی آئی ایم ایل لبریشن کے امید وار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انتظامیہ غریب اور دلت مخالف ہے اور صرف نکسلی تحریک ہی دلتوں اور پسماندہ برادریوں کو ظلم و جبر سے نجات دلاسکتی ہے‘۔

ضلع کے بڑھیتا گاؤں میں اعلیٰ ذات کے ہندو پولیس کے پہرے کے باوجود انتہائی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہاں نکسلی کئی بار حملے کر چکے ہیں ۔

انتقامی کارروائی اور ظلم کے سبب گاؤں کے ایک ہزار سے زیادہ دلت اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار ہوگۓ ہیں ۔ ان میں سے کچھ نے نکسلی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔

ضلع ارول کے بھی کئی گاؤں کے دلت بھی خوف سے فرار ہو گۓ ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ دلت ہی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں ۔ یہاں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو بھی تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ دراصل نکسلی تحریک اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی بالادستی کے خلاف بنی ہے ۔ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے بھی اس کے جواب میں رنویر سینا بنا رکھی ہے ۔

جہان آباد کے ضلع مجسٹریٹ انور عالم منظر کہتے ہیں کہ معاشرے میں غریبی اور امیری کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے ۔ اس کے علاوہ انتظامی مسائل بھی صورت حال کے لیے ذمہ دار ہیں ۔

پولیس کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ مختلف علاقوں تک پہنچنے کے لیے سڑک نہیں ہے۔ انتظامیہ میں پسماندہ برادریوں کی نمائندگی کم ہے۔ ان حقائق کے سبب غریبوں کا اعتماد انتظامیہ سے اٹھتا جارہا ہے اور انہیں یقین ہونے لگا ہے کہ انتظامیہ ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتی ۔

نکسلی تحریک جنوب میں آندھر پردیش سے لے کر مدھیہ پردیش، اڑیسہ، اتر پردیش اور بہار ہوتی ہوئی ماؤنوازوں کی شکل میں نیپال تک پھیل چکی ہے ۔ اس کا اثر ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں کی بیشتر آبادی غربت اور افلاس میں زندگی گزار رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد