ِبہار کا معذور گاؤں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بہت صاحب لوگ آئے۔ فوٹو بھی لیا لیکن ہوا کچھ نہیں۔ ہم لوگ چھوٹی ذات کے لوگ ہیں اس لیے نیتا لوگ بھی کچھ نہیں کرتے‘۔ یہ درد ہے بزرگ کشن کا جو ریاست ِبہار کے نوادہ ضلع کے کچہریاڈیہ گاؤں میں رہتے ہیں جہاں تقریباً پندرہ سال سے پیدا ہونے والا ہر بچہ یا تو پیدائشی طور پر معذور ہوتا ہے یا ایک دو سال میں اس کے اعضاء درخت کی شاخوں کی مانند مُڑ جاتے ہیں۔ جھارکھنڈ کی سرحد پر واقع اس گاؤں میں تقریباً ستر گھرہیں۔ یہاں آدمی تو آدمی مویشیوں تک کی ہڈّیاں بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بڑے تو کسی طرح چل لیتے ہیں لیکن سترہ اٹھارہ سال تک کے بچّوں کی اکثریت کبھی خود سے اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ وہ اب بھی گھٹنوں کے بل چلتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں جو خواتین بیاہ کر یہاں آئی ہیں انہیں بھی لنگ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ یہاں کی عورتوں میں اسقاط حمل کی شکایت عام ہے۔ اور جو بچہّ اس دنیا میں آ جاتا ہے وہ بھی ہڈّیوں کی بیماری کا شکار ہونے سے بچ نہیں پاتا۔ کشن کے بیٹے سنتوش کے لۓ چلنا تو دور وہ ڈھنگ سے بول پاتا ہے نہ صحیح طریقے سے بیٹھنا اس کے لیے ممکن ہے۔ مگر جب ہم گاؤں پہنچے تو وہ دھان کے دانے الگ کرنے میں مصروف تھا۔
اس گاؤں کے جن لوگوں کی عمر تیس، پینتیس سال سے زیادہ ہے انکی کمر جھکی ہوئی ہے، ہاتھ اور پیر اینٹھے ہوئے ہیں، دانت پیلے پڑ رہے ہیں اور مسوڑھے گل رہے ہیں۔ نزدیکی گاؤں سے آئے ایشوری کا پورا خاندان معذور ہوچکا ہے۔ مقامی صحافی اشوک پریہ درشی بتاتے ہیں کہ تین سال پہلے پتہ چلا کہ پانی میں فلورائیڈ کی مقدار کافی زیادہ ہے اور اسی وجہ سےگاؤں والے فلوروسس نامی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی میں فلورائیڈ کی مقدار ڈیڑھ ملی گرام فی لیٹر ہونی چاہیے جبکہ اس گاؤں میں یہ آٹھ ملی گرام فی لیٹر ہے۔ رجولی کے فرسٹ میڈیکل افسر ڈاکٹر ایس پی سنگھ نے بتایا کہ عام طور پر لوگ کچہریا ڈیہ کی بیماری کو فلوروسس قرار دے رہے ہیں لیکن پختہ طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ ماہرین کی متعدد ٹیمیں علاقے میں آ چکی ہیں لیکن وہ بھی کسی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں روئی اور بینڈج تک تو ہوتی نہیں، ہم اس مرض کا کیا علاج کر سکتے ہیں۔ بس ایک علاج ہے کہ گاؤں والوں کو کہیں اور بسا دیا جائے۔ جب گاؤں والوں سے پوچھا گیا کہ یہ کب سے ہو رہا ہے تو سبھی نے یک لخت کہا کہ جب سے پاس کا ڈیم بنا ہے یہ پریشانی پیدا ہوئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گاؤں کے پڑوس کے علاقوں میں ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ۔ فلوروسس کی بیماری ویسے تو ہندوستان کے کئی علاقوں میں موجود ہے لیکن کہیں بھی پورے کا پورا گاؤں اس حد تک اس بیماری سے دو چار نہیں نظر آتا۔
گاؤں کے دوارک راج ونشی کا کہنا تھا کہ ’وعدے تو بہت لوگوں نے کئے مگر ہوا کچھ نہیں۔ ہم اتنے پیسے والے نہیں کہ دوڑ دھوپ کر سکیں یا ڈاکٹروں کے پاس جا سکیں اور ڈاکٹر ویسے بھی جواب دے چکے ہیں‘۔ کچہریا ڈیہ گاؤں کیا ہے؟ تمام سہولتوں سے محروم لوگوں کا جھنڈ یہاں زندہ رہنے پر مجبور ہے۔ بجلی اور ٹیلیفون کا ذکر کرنا مقامی لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ یہاں مکتب نظر آتا ہے نہ کوئی ہسپتال۔ پینے کے پانی کے لئے ایک ہینڈ پمپ ہے جسکا پانی بھی لوگوں کو زندہ تو رکھے ہوئے ہے لیکن لوگوں کی پوری زندگی معذور بن گئی ہے۔
معذوروں کو تعلیم دینے کے لیے ایک سرکاری استاد مقرر ہے۔گاؤں والوں نے شکایت کی کہ ماسٹر صاحب صبح آٹھ بجے آتے ہیں اور ایک گھنٹے میں لوٹ جاتے ہیں۔گاؤں کی سڑک اور مکانات کچّے ہیں۔ اس گاؤں کی پوری آبادی راج ونشی نامی نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور اسی لۓ اتنی ہمّت نہیں رکھتی کہ وہ اطراف کے گاؤں سے پانی لا سکے۔ غربت اور بیماری کے شکار زیادہ تر گاؤں والے محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں اور کچھ لوگ تو بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔زیادہ تر لوگوں کے بدن پر بالکل پھٹے پرانے کپڑے نظر آتے ہیں۔
اشوک پریہ درشی نے بتایا کہ گاؤں میں بےضرر پانی پہنچانے کے لیے ایک پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے مگر یہ کافی سست روی کا شکار ہے۔ رجولی کے ایم ایل اے مسٹر راجہ رام پاسوان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فنڈ سے نواسی لاکھ روپے خرچ کر کے واٹر ٹاور بنوا رہے ہیں جو کہ مارچ تک مکمل ہو جائےگا۔ گاؤں والوں سے پوچھا گیا کہ جب پانی اتنا خراب ہے تو وہ گاؤں چھوڑ کر کیوں نہیں چلے جاتے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کہاں جائیں۔حکومت نے پہاڑی کے پاس زمین کے کاغذات تو دیے ہیں مگر وہاں رہنے کے لۓ گھر کیسے بنائیں اور دوسری جانب یہ پائپ بھی بچھ رہا ہے اور ان پائپوں سے پورے گاؤں کی آس لگی ہوئی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||