BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 November, 2004, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹروں کی ہڑتال میں جزوی کمی
News image
بہار میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ایک اغوا شدہ ڈاکٹر کی رہائی کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجینسی میں کام شروع کررہے ہیں لیکن وہ اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر بارہ نومبر کو ایک سینیئر سرجن کے قتل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس ہڑتال میں پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے لگ بھگ بیس ہزار ڈاکٹر شریک ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کی سیکورٹی کو یقینی نہیں بناتی وہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔ اغوا شدہ ڈاکٹر ناگیندر پرساد انیس روز تک قید رہنے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔

ہڑتال سے ریاست میں مریضوں کی دیکھ بھال کا کام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ فوری طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال میں شریک ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے باعث انتہائی سنگین امراض کے شکار مریضوں کو بھی ڈاکٹروں نے دیکھنے سے انکار کیا ہے۔

بہار کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر وجے شنکر سنگھ نے کہا ہے کہ جب تک حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہڑتال ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ان مطالبات میں قتل ہونے والے سرجن کے قاتلوں کی گرفتاری، اٹھارہ دن پہلے اغوا ہونے والے ڈاکٹر نگیندر پرساد کی رہائی اور بھتے کی وصولی کے لیے ڈاکٹروں کو کی جانے والے ٹیلی فون کالز کا خاتمہ شامل ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد