ڈاکٹروں کی ہڑتال میں جزوی کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ایک اغوا شدہ ڈاکٹر کی رہائی کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجینسی میں کام شروع کررہے ہیں لیکن وہ اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر بارہ نومبر کو ایک سینیئر سرجن کے قتل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس ہڑتال میں پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے لگ بھگ بیس ہزار ڈاکٹر شریک ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کی سیکورٹی کو یقینی نہیں بناتی وہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔ اغوا شدہ ڈاکٹر ناگیندر پرساد انیس روز تک قید رہنے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔ ہڑتال سے ریاست میں مریضوں کی دیکھ بھال کا کام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ فوری طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال میں شریک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے باعث انتہائی سنگین امراض کے شکار مریضوں کو بھی ڈاکٹروں نے دیکھنے سے انکار کیا ہے۔ بہار کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر وجے شنکر سنگھ نے کہا ہے کہ جب تک حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہڑتال ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان مطالبات میں قتل ہونے والے سرجن کے قاتلوں کی گرفتاری، اٹھارہ دن پہلے اغوا ہونے والے ڈاکٹر نگیندر پرساد کی رہائی اور بھتے کی وصولی کے لیے ڈاکٹروں کو کی جانے والے ٹیلی فون کالز کا خاتمہ شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||