بہار انتخابات مسائل کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں تین فروری سے ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے جانے لگے ہیں لیکن ریاست میں سیاسی مسائل سے زیادہ نکسلی تشدّد ملازمین کی ہڑتال اور الیکشن کمیشن کے احکامات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ریاست کے تیں لاکھ سے زائد سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال سے 60 برس کرنے کے اہم مطالبے کے لیے ایک ماہ سے ہڑتال پر ہیں۔ ان کی ہڑتال سے ریاست میں دیگر مسائل کے علاوہ انتخابی عمل میں بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے لی جانے والی ضمانت کی رقم جمع کرنے کے لیے مقامی حکام کو متبادل انتظام کرنا پڑا ہے۔ ہڑتال کرنے والے ملازمین خود تو سرکاری کاموں سے دور رہ ہی رہے ہیں پر یہ انہیں بھی کام کرنے نہیں دے رہے جو ہڑتال پر نہیں ہیں۔ نتیجتاً ریاست میں بینک ملازمین کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی ٹریننگ دینے کی کوشش کے دوران کئی شہروں میں ہاتھاپائی کی نوبت آ گئی اور اکثر مقامات پر حکام کو ٹریننگ کا پروگرام ملتوی کر دینا پڑا۔ ریاست کے چیف الیکشن کمشنر کے سی ساہا کہتے ہیں کہ ہڑتال کر رہے ملازمین اگر چند دنوں میں الیکشن کے کام میں شامل نہیں ہوتے اور اسی طرح اسکے کام میں رخنہ ڈالتے رہے تو انہیں جیل میں ڈال دیا جائےگا۔ اس ہڑتال کی وجہ سے الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی بھی بات آئی تھی لیکن مسٹر ساہا کہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں ایسا نہیں ہو گا۔ الیکشن کمیشن ہڑتالی ملازمین کے خلاف عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت اقدام کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن انکے مطالبات ماننے کے لیے سرکار کو راضی کر لے تو وہ کام پر لوٹ آئں گے۔
دراصل الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کی وجہ سے سرکار کے لیے ان معاملوں میں فیصلے کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور جب اسکا ارادہ کوئی مطالبہ مسترد کرنے کا ہو تو اسکے لیے الیکشن کمیشن کا بہانہ بہت کارگر ہوتا ہے۔ ملازمین کی کمی دور کرنے کے لیے سرکار نے دوسری ریاستوں سے ملازمین لانے کی صلاح دی ہے۔ اس بابت بہار نان گزیٹڈ امپلائز یونین کے صدر منجل کمار کہتے ہیں کہ کسی حالت میں باہر کے ملازمین سے انتخابات کرانے نہیں دیا جائے گا۔ خود سرکاری اہلکار بھی مانتے ہیں کہ باہر کے ملازمین کے لیے یہ کام بہت مشکل ہوگا۔ سرکار اور الیکشن کمیشن شائد ملازمین کی ہڑتال کا کوئی حل نکال لیں لیکن نکسلی تشدّد انکے لیے زیادہ بڑا سر درد ہے۔ گزشتہ دنوں ریاست کے مونگیر ضلع کے ایس پی اور پانچ پولیس والوں کی نکسلیوں کے بارودی سرنگ کی زد میں آکر موت ہو گئی تو حکام کو نکسلیوں کے خطرے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ ریاست کے چیف سیکریٹری کے سبرامنین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایس پی کے قتل کے واقعے کے بعد سرکار اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کو مجبور ہوئی ہے۔ بہار میں ریاست آندھرا پردیش کی طرح نکسلیوں سے مفاہمت کی کوئی بات نہیں چل رہی ہے اور اس واقعے کے بعد اسکی گنجائش بھی ختم ہو گئی ہے۔ مسٹر سبرامنین کہتے ہیں کہ جس بہیمانہ طریقے سے ایس پی کا قتل گیا ہے اس کے بعد بات چیت کے لیے سوچنا بھی ممکن نہیں۔ ریاست کی ماؤ نواز تنظیم ایم سی سی اور آندھرا پردیش کے پی ڈبلیو جی کے اتحاد سے بنی نئی تنظیم سی پی آئی ( ایم) ریاست میں انتخابی عمل کو در برہم کرنے میں پوری قوت کے ساتھ لگی ہے اور حکام ان سے نمٹنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی مدد لے رہے ہیں۔ نکسلیوں نے متعدد مقامات پر الیکشن کے بائیکاٹ کے پوسٹر چسپاں کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ہڑتالی ملازمین اور نکسلی تشدّد کے علاوہ ہائی کورٹ کے اس حکم سے بھی سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے جس میں اس نے مفرور قرار دیے گئے افراد کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے کہا ہے۔ کمیشن نے چند ہفتے پہلے سول انتظامیہ سے مفرور ملزمان کے متعلق رپورٹ مانگی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر کمیشن نے دوبارہ یہ رپورٹ طلب کی تو پتہ چلا کہ ریاست میں تقریباً 38 ہزار ایسے ملزمان ہیں جن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ ہیں اور وہ فرار ہیں۔ الیکشن کمیشن کی پریشانیاں اپنی جگہ، خود کمیشن کی وجہ سے سیاست داں بھی مشکلات کے شکار ہو رہے ہیں۔ کمیشن نے انتخابات کے لیے جو مثالی ضابطۂ اخلاق وضع کیے ہیں انکی خلاف ورزی کے الزام میں ریلوے کے وزیر اور آر جےڈی کے رہنما لالو پرساد کے علاوہ سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس پر مقدمے دائر ہو چکے ہیں۔ ضابطہء اخلاق کی وجہ سے یوم جمہوریہ کے موقع پر وزراء ممبر اسمبلی اور پارلیمان کے ساتھ ساتھ امیدوار اپنے علاقوں میں پرچم کشائی نہیں کر سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||