الیکشن: بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار سمیت ہندوستان کی تین ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ قومی انتخابی کمیشن کے مطابق بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات تین مرحلوں میں تین، 15 ، اور 23 فروری کو ہو ں گے۔ ہریانہ کی 90 رکنی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی مرحلے میں تین فروری کو منعقد کیے جائیں گے۔ بہار اور جھارکھنڈ میں تین مرحلے میں انتخابات ہوں گے۔ ووٹ تو تین مرحلے میں ڈالے جائيں گے لیکن ووٹوں کی گنتی تینوں ریاستوں میں 27 فروری کو ہوگی۔ نوٹیفیکشن اور نامزد گیاں داخل کرنے کا عمل 10 جنوری سے شروع ہوگا لیکن انتخابی ضابطۂ اخلاق انتخابی کمیشن کے آج کے ا علان کے ساتھ ہی عمل میں آگیا ہے۔ الکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کا اطلاق تینوں ریاستوں، سبھی سیاسی جماعتوں، ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت پر ہوگا۔ بہار میں لالو پرساد یادو کا راشٹریہ جنتا دل اقتدار میں ہے۔ جبکہ پڑوسی ریاست جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حکمرانی ہے۔ ہریانہ میں علاقائی جماعت انڈ ین لوک دل اقتدار میں ہے۔ ریاستی اسمبلی کے یہ انتخابات کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ اگر کانگریس جھارکھنڈ اور ہریانہ میں کامیاب ہوتی ہے تو مرکز میں اس کی پوزیشن بہت مستحکم ہوگی اور سونیا گاندھی کی حیثیت ذاتی طور پر اور مضبوط ہو گی۔ ادھر جھارکھنڈ میں بی جے پی کی اگر شکست ہوتی ہے تو پارٹی کو شاید اب تک کے سب سے بڑے تنظيمی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ یہاں اسمبلی کی 81 سیٹیں ہیں- بہار کے انتخاب سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی کمزور ہیں اور اصل لڑائی لالو کی آر جے ڈی اور بی جے پی کی اتحادی جارج فرنانڈیز کے جنتا دل یونائٹیڈ کے درمیان ہوگی۔ راشٹریہ جنتا دل تقریبا 15 برس سے بہار میں اقتدار میں ہے۔ بہار میں اپوزیشن منتشر ہے، اس لیے لالو سے ناراضگی کے باوجود کوئی بڑا انتخابی چیلینج فی الحال نظر نہیں آتا۔ انتخاباب کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ان ریاستوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||